بین الاقوامی خبریں

غزہ کی پٹی بدترین انسانی المیے کی زد میں ہے: جنرل سکریٹری اقوام متحدہ

گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ پٹی اس وقت بدترین انسانی المیے میں گھری ہوئی ہے

نیویارک،30نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ غزہ پٹی اس وقت بدترین انسانی المیے میں گھری ہوئی ہے۔خبر رساں کے مطابق انتونیو گوتریس نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا جب فلسطینی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان عارضی معاہدے کی بجائے مستقل جنگ بندی پر زور دیا جا رہا۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے چین کے وزیرخارجہ وانگ یی کی صدارت میں ہونے والے سکیورٹی کونسل کے اجلاس کو بتایا کہ ’اس معاہدے کی مدت بڑھانے کے لیے سنجیدہ مذاکرات ہو رہے ہیں اور ہم اس کا پرزور خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں انسانی بنیادوں پر مستقل جنگ بندی کے معاہدے کی ضرورت ہے۔چینی وزیرخارجہ وانگ یی نے کونسل کو بتایا کہ ہمیں ایک جامع اور دیرپا جنگ بندی کے لیے انتہائی تیزی کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔

غزہ میں بھی کوئی فائر وال نہیں ہے۔ دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی غالباً ایک آفت میں بدل جائے گی جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان جو مصر، قطر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور ملائیشیا کے ہم منصبوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں صحافیوں کو بتایا کہ غزہ میں پہنچنے والی امداد ضرورت سے بہت کم ہے۔انہوں نے کہا کہ خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے تو ہم اسی پیمانے پر ہلاکتیں دیکھیں گے جیسا ہم پہلے دیکھ چکے ہیں۔ اور یہ ناقابل برداشت ہے، لہٰذا ہم یہاں ایک واضح بیان دینے کے لیے آئے ہیں کہ عارضی جنگ بندی کافی نہیں ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ مستقل جنگ بندی کی ہے۔سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے اقوام متحدہ میں سفیر گیلاد اردان نے وزراء خارجہ پر الزام لگایا کہ وہ ’ایک ایسی دہشت گرد تنظیم کی حمایت کر رہے ہیں جس کا مقصد اسرائیل کو تباہ کرنا ہے۔گیلاد اردان نے کہا کہ ’جو بھی جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے وہ بنیادی طور پر حماس کی غزہ میں جاری دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button