سری لنکا نے سات ممالک کے لیے فری سیاحتی ویزوں کا اعلان کردیا
پاکستان اور افغانستان: دنیا بھر میں دو ملک ایسے ہیں، جہاں بچے اب بھی پولیو کے ہیں شکار
کولمبو ،30نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سری لنکا نے انڈیا سمیت سات ممالک کے شہریوں کو فری سیاحتی ویزے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے محکمہ امیگریشن کی جانب سے فری ویزے جاری کرنے کا فیصلہ ملک کے سیاحتی سیکٹر کو ترقی دینے کے لیے کیا گیا ہے۔خیال رہے اکتوبر میں سری لنکا کی کابینہ نے انڈیا، چین، روس، ملائیشیا، جاپان، انڈونیشیا اور تھائی لینڈ کے شہریوں کو فری سیاحتی ویزے جاری کا فیصلہ کیا تھا۔سری لنکا کے محکمہ امیگریشن کے مطابق فری آزمائشی بنیاد پر سیاحتی ویزے جاری کرنے کا سلسلہ 31 مارچ 2024 میں 30 دن کے لیے شروع کیا جائے گا۔سیاحوں کو فری ویزے پر 30 دنوں تک سری لنکا میں رہنے کی اجازت ہوگی۔خیال رہے اکتوبر میں سری لنکا جانے والے انڈین سیاحوں کی تعداد 28 ہزار تھی جبکہ پچھلے مہینے سری لنکا جانے والے روسی سیاحوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار تھی۔سری لنکا میں سیاحت کو اس وقت ٹھیس پہنچی جب 2019 میں ایسٹر بم دھماکوں میں 11 انڈین شہریوں سمیت 270 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
پاکستان اور افغانستان: دنیا بھر میں دو ملک ایسے ہیں، جہاں بچے اب بھی پولیو کے ہیں شکار
اسلام آباد،30نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پاکستان میں جہاں ملک گیر پولیو ویکسی نیشن مہم کا آغاز پیر کے روز سے کیا گیا ہے، دنیا کے ان دو ممالک میں سے ایک ہے جہاں مفلوج کر دینے والا یہ وائرس اب بھی موجود ہے۔پاکستان میں اس سال اب تک اس انتہائی متعدی بیماری کے پانچ کیسز کے بارے میں اطلاع ملی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی اس تازہ ترین مہم کے دوران, پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں 4کروڑسے زیادہ بچوں کو ویکسین پلائی جائے گی۔پاکستان 2021 میں پولیو کا تقریبا خاتمہ کر چکا تھا جب اس وائرس سے متاثرہ صرف ایک کیس کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ تاہم، گزشتہ سال ملک میں پولیو کیسز میں ایک ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا جب اس کے 20 کیسز رپورٹ ہوئے۔ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے شہر کراچی میں اس سال دو کیس منظر عام پر آئے جبکہ مجموعی کیسز کی تعداد پانچ ہے۔پاکستان کے صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے ترجمان سید نوفل نقوی نے بتایا کہ کراچی میں ان دونوں کیسز کا تعلق افغان خاندانوں کے بچوں سے ہے جو برسوں سے پاکستان میں آباد ہیں۔
نقوی نے اس مرض کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان نقل و حرکت کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ افغانستان پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے کوشاں واحد دوسرا ملک ہے جہاں 2023 میں اب تک چھ کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔نقوی کا کہنا ہے کہ پاکستان بھر میں پائے جانے والیوائرس کے نمونے جینیاتی طور پر افغانستان سے ملنے والے نمونوں سے مشابہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیو ٹیمیں بس سٹاپوں اور دیگر ٹرانزٹ پوائنٹس پر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلاتی ہیں تاکہ مسافروں کی آمدورفت کے نتیجے میں پھیلنے والے اس وائرس کی روک تھام کی جا سکے۔پاکستان میں اس سال پولیو کے باقی تمام کیسز کا تعلق شمالی صوبے خیبر پختونخوا کے ایک قصبے بنوں سے ہے۔ صوبائی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے ڈپٹی کوآرڈینیٹر محمد ذیشان خان نے بتایا کہ متاثرہ تینوں بچوں کے خاندانوں نے انھیں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے علاوہ ان بچوں کو مدافعت بڑھانے والا ایک ابتدائی انجکشن بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تینوں بچے فالج کا شکار ہو گئے۔ ذیشان خان نے کہا کہ ان خاندانوں کو خدشہ ہے کہ ویکسین ان کے بچوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔پاکستان میں والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پولیو وائرس کی موجودگی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔



