تلنگانہ کی خبریںسرورق

تلنگانہ اسمبلی انتخاب: وزیر اعلیٰ کے سی راؤ کو لگا ناقابل تلافی سیاسی دھچکا،گورنر کو استعفیٰ نامہ بھجوادیا

تلنگانہ اسمبلی انتخابات،کانگریس کی کامیابی پر کارکنان کا جشن، مٹھائیاں تقسیم

حیدرآباد،3دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تلنگانہ اسمبلی انتخاب میں کانگریس نے اکثریت حاصل کر لی ہے اور جلد ہی پارٹی کی طرف سے حکومت سازی کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے. چندرشیکھر راؤ نے گورنر تملسائی سندرراجن کو اپنا استعفیٰ نامہ بھیج دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جب ووٹوں کی گنتی کے دوران یہ صاف ہو گیا کہ بی آر ایس (بھارتیہ راشٹر سمیتی) اقتدار پر قابض نہیں رہ سکے گی تو کے سی آر نے ایک افسر کے ذریعہ اپنا استعفیٰ راج بھون بھجوا دیا۔امید ظاہر کی جا رہی تھی کہ کے سی آر اپنا استعفیٰ سونپنے خود راج بھون جائیں گے، لیکن وہ ذاتی کار سے انتہائی خاموشی کے ساتھ وزیر اعلیٰ رہائش سے نکلے اور راج بھون کی جگہ کسی اور مقام پر چلے گئے۔

بعد میں پتہ چلا کہ انھوں نے اپنا استعفیٰ نامہ ایک افسر کے ذریعہ راج بھون بھیجا ہے۔اس درمیان بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راماراؤ نے اتوار کے روز تلنگانہ اسمبلی انتخاب میں پارٹی کی شکست کو قبول کیا اور کہا کہ نتائج انتہائی مایوس کن ہیں، لیکن ہم واپسی کریں گے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر انھوں نے لکھا کہ آج کے نتائج سے افسردہ نہیں ہوں، لیکن مایوس ضرور ہوں۔ یہ ہمارے لیے امید کے مطابق نہیں تھا، لیکن ہم اسے ایک سبق کی شکل میں لیں گے اور واپسی کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ جب سے تلنگانہ ریاست بنی ہے، تب سے بی آر ایس کو لگاتار دو مدت کار عوام نے حکمرانی کے لیے دی۔ اس بھروسہ کے لیے کے ٹی آر نے تلنگانہ کی عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے اسمبلی انتخاب کے تازہ نتائج میں کامیابی کے لیے کانگریس کو مبارکباد بھی پیش کی۔ قابل ذکر ہے کہ کے ٹی آر نے ایگزٹ پول کو خارج کر دیا تھا جس میں پہلے ہی کانگریس کو سبقت دکھائی گئی تھی۔ انھوں نے ایگزٹ پول کے ڈاٹا کو ’بکواس‘ قرار دیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ بی آر ایس ایک بار پھر فتحیاب ہوگی، حالانکہ ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔


تلنگانہ اسمبلی انتخابات،کانگریس کی کامیابی پر کارکنان کا جشن، مٹھائیاں تقسیم

حیدرآباد،3دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)تلنگانہ اسمبلی انتخابات کے لیے ووٹنگ کی گنتی جاری ہے۔ ابتدائی رجحانات میں کانگریس تلنگانہ میں آگے ہے۔ ان رجحانات سے حوصلہ پا کر کانگریس کارکنوں نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ کانگریس کیڈر نے حیدرآباد میں پارٹی کے ریاستی یونٹ کے دفتر کے باہر پٹاخے پھوڑے۔دریں اثنا، حیدرآباد میں واقع اس کے ہیڈکوارٹرس گاندھی بھون میں جشن کا ماحول دیکھا گیا پارٹی کے لیڈروں، کارکنوں، محبان کانگریس کی بڑی تعداد انتخابی نتائج کے ساتھ ہی جمع ہو گئی جنہوں نے بڑے پیمانہ پر جشن منایا، پٹاخے چھوڑے اور رقص کرتے ہوئے ایک دوسرے کو جیت کی مبارکباد پیش کی۔کانگریس، 2014 میں تلنگانہ کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ اس تلگو ریاست میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ اس جشن میں پارٹی لیڈروں کا جوش دیکھنے لائق تھا جنہوں نے اس تبدیلی کو ریاست کے عوام لیے فال نیک قرار دیا۔ کانگریس کارکنوں اور لیڈروں نے صدر تلنگانہ کانگریس ریونت ریڈی کے حق میں نعرے بازی کی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button