قطر میں پھنسے بحریہ افسران کو حکومت ہند جلد رِہا کرائے: ادھیر رنجن چودھری
بحریہ کے 8 سابق افسران کو قطر کی عدالت کی طرف سے سنائی گئی
نئی دہلی، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس آج سے شروع ہو گیا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں کی کارروائی آج شروع ہوئی جس میں مختلف ایشوز اٹھائے گئے۔ لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے وقفہ صفر کے دوران بحریہ کے 8 سابق افسران کو قطر کی عدالت کی طرف سے سنائی گئی موت کی سزا کا معاملہ اٹھایا۔ انھوں نے سابق بحریہ افسران کی جلد از جلد رہائی کے لیے کوشش کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے لوک سبھا میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ بحریہ کے ان سابق افسران نے ملک کے لیے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ اب قطر میں انہیں سنگین مقدمات میں سزائے موت سنائی گئی ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراً ایکشن لے اور ان کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بحریہ کے افسران اور جوان سمندر میں رہ کر ملک کی حفاظت کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ بحریہ کے ان سابق افسران کی فوری مدد کرے جنہوں نے ملک کی حفاظت کے لیے اپنی بیش قیمت خدمات پیش کیں۔ادھیر رنجن چودھری کا ایوان میں کہنا تھا کہ قطر کی حکومت کے ساتھ ہمارے ملک کے اچھے تعلقات ہیں، ان بہتر تعلقات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام ذرائع کا استعمال کرے تاکہ ہندوستانی بحریہ کے ان سابق افسران کیخلاف الزامات کو جلد از جلد کالعدم کیا جائے۔



