منی پور میں دو گروپوں کے درمیان فائرنگ، 13 افراد ہلاک
دو نامعلوم مسلح گروپوں میں تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک
امپھال، 4دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)منی پور میں پیر کو دو نامعلوم مسلح گروپوں میں تصادم کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مقامی پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں منی پور کے تنگنوپال ضلع کے ایک گاؤں سے ملی ہیں۔خیال رہے سات ماہ پہلے منی پور میں نسلی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس کے نتیجے میں 180 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ آسام رائفلز کے مطابق علاقے کے ایک باغی گروپ نے میانمار جانے والے عسکریت پسندوں پر یہ حملہ کیا ہے۔
ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔3دسمبر کو منی پور حکومت نے کچھ علاقوں کو چھوڑ کر ریاست میں موبائل انٹرنیٹ خدمات 18 دسمبر تک بحال کر دی تھیں۔اس کے بعد فائرنگ کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ریاست میں ریزرویشن کو لے کر کوکی اور میتی گروپوں کے درمیان3 مئی سے تشدد جاری ہے۔ پرتشدد واقعات میں اب تک 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ 50 ہزار لوگ ریلیف کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق تنگنوپال ضلع کے گاؤں میں شدید فائرنگ اور لڑائی کی اطلاع موصول ہوئی تھی۔تین مئی کو اکثریتی میتی نسلی گروپ اور اقلیتی کوکی کمیونٹی کے درمیان حکومتی مراعات اور کوٹے کے ایشوز پر فسادات پھوٹنے کے بعد سے وقفے وقفے سے ریاست میں پرتشدد واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ریاستی دارالحکومت سے سینیئر پولیس افسر نے فون پر روئٹرز کو بتایا کہ ’ہم اس وقت اس پوزیشن میں نہیں کہ لاشوں کی شناخت کر سکیں اور نہ یہ بتاسکتے ہیں کہ ان کا تعلق کس مسلح گروپ سے ہے۔
خیال رہے منی پور میں حالیہ نسلی فسادات 3 مئی کو اس وقت شروع ہوئے جب ریاست کی طلبہ تنظیم ’آل ٹرائبل اسٹوڈنٹس یونین منی پور‘ (اے ٹی ایس یو ایم) نے ریاست کی تمام اقلیتی برادریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منی پور ہائی کورٹ کے سامنے مارچ کیا، جس میں ہزاروں طلبہ نے شرکت کی۔مذکورہ مارچ اپریل میں منی پور ہائی کورٹ کی جانب سے دیے گئے ایک فیصلے کے خلاف کیا گیا تھا۔منی پور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ریاست کے اکثریت قبیلے ’میتی‘ کو بھی شیڈولڈ کاسٹ یعنی اقلیتی قبیلے میں شمار کیا جائے اور اسے بھی وہ مراعات دی جانی چاہیے، جو اقلیتی اور پسماندہ طبقے کو ملتی ہیں۔



