سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

فطرت کی یکجہتی، رنگ جذبات کی عکاسی کیسے کرتے ہیں؟ رافعہ افضل بنگلور

دنیا بھر میں بھورا رنگ سب سے کم جذبات کو متحرک کرتا ہے۔

دنیا بھر میں لوگ رنگوں کو جذبات کے ساتھ جوڑتے ہیں، درحقیقت دنیا کے ممالک میں لوگ اکثر کسی ایک رنگ کو ایک ہی طرح کے مختلف جذبات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق یہ بات ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کے چھ براعظموں کے 30 ممالک میں چار ہزار 598 شرکا پر مشتمل سروے میں سامنے آئی ہے اور یہ تحقیق سائیکالوجیکل سائنس نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

یوہینس گوٹنبرگ یونیورسٹی مائنز میں شرکا کی ٹیم کے رکن ڈاکٹر ڈینیل اوبرفلڈ ٹوئسٹل کا کہنا تھا کہ اس تحقیق سے انہیں ایک تفصیلی جائزہ لینے کا موقع ملا اور ٹیم نے یہ نتیجہ اخز کیا کہ رنگوں اور جذبات کا تعلق حیرت انگیز طور پر دنیا بھر میں ایک ہی جیسا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس نوعیت کی تحقیق پہلے کبھی نہیں ہوئی ہے۔ تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ سروے کے شرکا سے سوالات کے جوابات طلب کیے گئے جن میں ان سے 20 جذبات کو 12 مختلف رنگوں کے ناموں کے ساتھ منسوب کرنے کے لیے کہا گیا۔

شرکا سے یہ بھی پوچھا گیا کہ وہ کتنی شدت سے ان رنگوں کو بتائے گئے جذبات کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ سوالات کے جوابات طلب کرنے کے بعد محققین نے ڈیٹا کے قومی اوسط کا حساب لگایا اور اس کا دنیا بھر کی اوسط سے موازنہ کیا۔ ڈاکٹر ڈینیل اوبر فلڈ ٹوئسٹل کا کہنا تھا کہ نتائج میں معنی خیز مماثلت سامنے آئی۔ انہوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر لال رنگ دنیا بھر میں وہ واحد رنگ ہے جسے محبت کے مثبت جذبے اور نفرت جیسے منفی جذبے، دونوں سے منسوب کیا جاتا ہے۔

دوسری جانب، دنیا بھر میں بھورا رنگ سب سے کم جذبات کو متحرک کرتا ہے۔ سائنسدانوں نے کچھ ممالک میں انوکھے مشاہدات کیے۔ مثال کے طور پر سفید رنگ کو چین میں اُداسی سے منسوب کیا جاتا ہے، جبکہ یونان میں ایسا جامنی رنگ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

اس کی وضاحت دیتے ہوئے ڈاکٹر ڈینیل نے بتایا کہ ایسا اس لیے ہوسکتا ہے کیونکہ چین میں تدفین پر سفید رنگ کے کپڑے پہنے جاتے ہیں اور گہرا جامنی رنگ یونان میں گرجا گھر میں سوگ کے دنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ثقافت کے فرق کے علاوہ موسم کا بھی اس میں کردار ہوسکتا ہے۔ اس ٹیم کی ایک دوسری تحقیق کے نتائج کے مطابق پیلا رنگ ان ممالک میں خوشیوں سے جوڑا جاتا ہے جہاں سورج کم نکلتا ہے، جبکہ اس رنگ سے خوشی کا تعلق ان ممالک میں کم ہے جہاں سورج کی روشنی زیادہ ہوتی ہے۔

ڈاکٹر ڈینیل کے مطابق اس وقت یہ بتانا مشکل ہے کہ دنیا بھر میں فرق اور مماثلت کی وجوہات کیا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس میں اثر کرنے والے کئی عوامل ہیں جن میں زبان، ثقافت، مذہب، موسم، انسانی ترقی کی تاریخ اور ذہنی نظام شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رنگوں اور جذبات کے تعلق سے متعلق اب بھی کئی باتوں کی وضاحت ہونا باقی ہے۔

تاہم ڈاکٹر ڈینیل کے بنائے گئے پروگرام سے ملنے والے تجزیے کے مطابق سائنسدانوں نے اس بات کا پتا لگا لیا ہے کہ جو ممالک ایک دوسرے سے دور ہیں یا جہاں زبانوں کا بہت فرق ہے، وہاں فرق پایا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button