غزۃ العزۃ-مجاہدین کے حسن اخلاق پر ایک یہودن کے تاثرات خط: دانیال و امیلیا،
ترجمہ: حذیفہ وستانوی
عربی میں محاورہ ہے: وَ الفَضْلُ مَا شَہِدَتْ بِہِ الأَعْدَائُ، حقیقی فضیلت تو تب ہوتی ہے جب دشمن بھی حسن سلوک کا اعتراف کرے اور گواہی دے۔ کتائب القسام کی جانب سے قسامی مجاہدین نے ایک زیر حراست عورت کا خط نشر کیا ہے جو اپنی چھوٹی بچی کے ساتھ غزہ میں قید تھی، اسلامی تعلیمات کا مکمل مظاہرہ کرتے ہوے مجاہدین نے یہ ثابت کردیا کہ اسلام اور مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ یہودی اور یورپی اقوام ’’اصل دہشت گرد‘‘ ہیں، اس عورت نے عبرانی زبان میں جاتے ہوئے ایک خط میں اپنے تاثرات قلمبند کئے تھے، قسامی مجاہدین نے اس کا عربی ترجمہ کیا اور ہم اسے اردو میں پیش کرتے ہیں۔
دنیا کی تمام زبانوں میں یہ خط خوب عام کیاجانا چاہیے تاکہ ثبوت کے ساتھ دنیا کے سامنے یہ بات آئے کہ قسامی مجاہدین جو اپنی زمین کے لیے برسر پیکار ہیں جنہیں ظالم اور کذاب دھوکہ باز یورپ دہشت گرد کہتا ہے، وہ اسلامی تعلیمات کے حقیقی پیروکار ہیں کہ اسلام دوران جنگ بھی عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو تکلیف پہنچانے سے منع کرتا ہے اگرچہ وہ دشمن ہی کیوں نہ ہوں، تو لیجیے اس اسرائیلی عورت کے خط کا ترجمہ پیش خدمت ہے ۔
’’جن جنرلوں کے ساتھ ہم غزہ میں تھے میں دل کی گہرائیوں سے ان کی ممنون و مشکور ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ ہم ان سے جدا ہونے والے ہیں۔ میں بے پناہ شکرگزار ہوں آپ سب کی اس لئے کہ آپ نے میرے ساتھ میری بیٹی امیلیا کو اپنے باپ کی طرح پیار دیا ، آپ اس کے ساتھ دوست کی طرح رہے، وہ جب چاہے آپ لوگوں کے پاس آتی جاتی تھی، آپ لوگوں نے چہیتے اور پیارے دوست سے بھی زیادہ ہمارے ساتھ عمدہ سلوک رکھا۔ شکریہ شکریہ شکریہ۔ آپ نے میری بیٹی کے ساتھ شفقت کا بہترین مظاہرہ کیا۔ اس کے ناز و نکھرے بھی برداشت کئے، اسے مٹھائی اور پھل کھلائے، جو آپ کے پاس نہیں تھا وہ بھی لا کر دیا، بچے قید نہیں کئے جاتے اور آپ نے یہ ثابت کرکے دکھایا، ہم نے آپ تمام لوگوں کو بہت بااخلاق پایا، دوران سفر اور اس طویل قیام کے دوران آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ کوئی بدسلوکی یا متعصبانہ برتاؤ نہیں رکھا بلکہ میری بیٹی تو غزہ میں شہزادی اور ملکہ کی طرح رہی۔
مجھے تو محسوس ہوا کہ دنیا میں غزہ امن وامان کا سب سے بڑا مرکز ہے، ہمارے ساتھ اعلیٰ قیادت سے لے کر عام لوگوں تک کسی نے تعصب کا کبھی اظہار نہیں کیا بلکہ نرمی پیار اور محبت ہی سے سب پیش آئے۔میں پوری زندگی آپ کی شکرگزار اور احسان مند رہوں گی کیونکہ مجھے کسی قسم کی کوئی اذیت اور تکلیف نہیں پہنچی۔
آپ حضرات کے حالات غزہ میں اتنے ابتر اور مشکل ترین ہونے کے باوجود آپ لوگوں نے ہمارے ساتھ حسن سلوک سے کام لیا۔کاش کہ دنیا کے حالات کچھ ایسی کروٹ لیتے کہ ہم سب مل جل کر اور دوست بن کر زندگی گزارنے پر قادر ہوجائیں۔
میں آپ سب کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہوں اور دعا گو ہوں کہ آپ سب صحت و عافیت سے رہیں، آپ اور آپ کے بچے اور آپ کے اہل و عیال، سب خوش حال رہیں۔ بہت بہت شکریہ ۔ ‘‘



