قومی خبریں

شاہی عیدگاہ مسجد کرشن جنم بھومی تنازعہ،وقف بورڈ سے جواب طلب

متھرا ضلع میں شاہی عیدگاہ مسجد -کرشنا جنم بھوم تنازعہ سے متعلق تمام 17 معاملات کی سماعت شروع کی

الٰہ آباد(پریاگ راج)، 5دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو متھرا ضلع میں شاہی عیدگاہ مسجد -کرشنا جنم بھوم تنازعہ سے متعلق تمام 17 معاملات کی سماعت شروع کی اور جواب دہندہ یو پی سنی سنٹرل وقف بورڈ سے کہا کہ وہ دو ہفتوں کے اندر تمام معاملات میں اپنا جواب داخل کرے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے پیر کو متھرا کی عدالت سے اس تنازعہ سے متعلق 17 مقدمات کا ریکارڈ حاصل کیا۔مدعی اور مدعا علیہ کے وکلاء کی پیشی ریکارڈ کرنے کے بعد جسٹس مینک کمار جین نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ ان مقدمات کی سماعت دو ہفتے بعد ہونے کا امکان ہے۔ یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے وکیل پونیت کمار گپتا نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات کو متھرا ڈسٹرکٹ کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ ان میں سے 16 مقدمات میں فریق ہے، اس لیے ان معاملات میں جواب داخل کرنا ہوگا۔

قبل ازیں 16 نومبر 2023 کو، جسٹس مینک کمار جین کی عدالت نے متھرا میں شاہی عیدگاہ کمپلیکس کے سروے کے لیے ایڈوکیٹ کمشنر کی تقرری سے متعلق ایک معاملے میں اپنا حکم محفوظ کر لیا تھا۔ ہندو فریق کے مطابق، مسجد عیدگاہ مبینہ طور پر شری کرشن کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی ہے۔ہائی کورٹ میں زیر التوا تمام اصل مقدموں میں ایک اعلامیہ طلب کیا گیا ہے کہ وہ جگہ جہاں شاہی عیدگاہ مسجد واقع ہے، یہ وہی زمین ہے جہاں شری کرشنا رہتے تھے۔ اس کے علاوہ مدعا علیہان کو مسجد ہٹانے کی ہدایت کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔ان مقدمات میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ متھرا کی شاہی عیدگاہ مسجد مغل بادشاہ عالمگیر اورنگ زیبؒ کے حکم پر تعمیر کی گئی تھی اور اس جگہ کو کرشن کی جائے پیدائش سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button