بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل- حماس جنگ امن و سلامتی کو درپیش خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے، اتونیو گوتریس

یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا ہے

نیویارک ، 7دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کو خبردار کیا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو درپیش موجودہ خطرات کو مزید بڑھا سکتی ہے۔خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کے بانی چارٹر کے شاذ و نادر ہی استعمال ہونے والے آرٹیکل 99 کا استعمال کیا جو انہیں کسی بھی ایسے معاملے پر سلامتی کونسل کی توجہ دلانے کا اختیار دیتا ہے جس سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔انہوں نے 15 رکنی کونسل کو لکھے ایک خط میں کہا کہ امن عامہ کے درہم برہم ہونے کا شدید خطرہ ہے، صورتحال تیزی سے تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے فلسطینیوں اور خطے میں امن و سلامتی پر انتہائی ہولناک اثرات مرتب ہوں گے۔اقوام متحدہ کے سربراہ نے خط میں کہا کہ اس طرح کے نتائج سے ہر حال میں گریز کیا جانا چاہیے۔

2017 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے اپنے اس اختیار کا استعمال کیا ہے۔سلامتی کونسل کی صدارت تبدیل ہوتی رہتی ہے اور وہ اس وقت ایکواڈور کے پاس ہے۔سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیتے ہوئے کہ انتونیو گوتریس نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے اعلان کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں صحت کی دیکھ بھال کا نظام تباہ ہو رہا ہے اور شہریوں کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات انسانی بنیادوں پر کسی بھی موثر اقدام کو ناممکن بنا رہے ہیں اور غزہ میں کوئی جگہ بھی محفوظ نہیں ہے۔غزہ کی پٹی کے محصور ساحلی علاقے پر حکومت کرنے والے اسرائیل اور حماس کے درمیان لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب 7 اکتوبر کو حماس نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی تھی جس میں 1200 افراد ہلاک ہو گئے تھے جبکہ کئی سو کو حماس نے یرغمال بنا لیا تھا۔انتونیو گوتیرس نے کہا کہ موجودہ صورتحال خطے میں امن اور سلامتی کے لیے خطرہ ہے، انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے ذریعے انسانی بقا کی بحالی ممکن ہے اور غزہ کی پٹی پر امداد کو بروقت پہنچایا جا سکتا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سلامتی کونسل کے ارکان انسانی امداد کے حوالے سے نئی قرارداد کے مسودے پر کام کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جانب سے جاری مسلسل بمباری کے نتیجے میں اب تک کم از کم 16 ہزار 200 افراد شہید ہو چکے ہیں جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہیں۔اس کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ لاپتا ہیں جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے وہ بمباری کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارت کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔


1967 کے بعد سے تقریباً ساڑھے 7 لاکھ فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے: اقوام متحدہ

نیویارک، 7دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)گزشتہ ہفتے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے تحت فلسطینی قیدیوں کی رہائی نے مغربی کنارے کے علاقے میں تقریباً سب ہی کو متاثر کیا،جہاں 1967 سے اب تک ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔اسرائیل کے ساتھ مذاکرات میں حماس نے اسرائیلی یرغمالوںی رہائی کے بدلے، ان فلسطینی قیدیوں میں سے جو اسرائیل کے پاس تھے، زیادہ نمایاں فلسطینی قیدیوں کو چھوڑنے پر زور دیا۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی قید میں زیادہ تر فلسطینی نوجوان ہیں جو آدھی رات کے وقت اسرائیلی بستیوں کے قریب دیہاتوں میں پتھر اور فائر بم پھینکنے کے الزام میں گرفتار کئے جاتے ہیں۔نبی صالح بھی ایک ایسا ہی گاؤں ہے جو طویل عرصے سے بنیادی سطح پر اپنی احتجاجی تحریک کے لئے جانا جاتا ہے۔ اسرائیل کی کارروائیوں نے پوری کمیونٹی کو متاثر کیا ہے جہاں نسل در نسل والدین یہ سمجھتے آئے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کے معاملے میں قطعی بے بس ہیں۔رپورٹ میں نبی صالح سے نوجوان لڑکوں کی ان کے والدین کی نگاہوں کے سامنے گرفتاریوں، قید اور پھر یرغمالوں کے بدلے اسرائیل میں قید فلسطینیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت ان میں سے کچھ کی رہائی کے بارے میں تفصیل سے بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نبی صالح نامی یہ گاؤں، ایک ایسی جگہ ہے جہاں جیل جانا فلسطینی لڑکوں کے لیے ایک تکلیف دہ رسم بن گئی ہے۔

یہاں اقوام متحدہ کے مطابق 1967 کی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے بعد سے جب اسرائیل نے پورے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا، کوئی ساڑھے سات لاکھ فلسطینیوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔اسرائیلی فوج نابالغوں سمیت بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کادفاع جنگجوؤں کے حملے روکنے کے استدلال سیکرتی ہے۔ ایک بیان میں فوج نے کہا کہ وہ مشتبہ لوگوں کے حقوق اور وقار کو محفوظ رکھتی ہے۔نبی صالح کے پانچ سو پچاس مکینوں میں سے زیادہ تر خون یا شادی کے رشتوں سے ایک دوسرے کے عزیز ہیں۔ اور زیادہ تر لڑکے اپنے باپ دادا کی طرح جیل جا چکے ہیں۔ اور یہ گاؤں اپنے مظاہروں کے لئے شہرت رکھتا ہے۔اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے وقفے میں اسرائیل نے دو سو چالیس نا بالغوں اور خواتین کو رہا کیا۔ ایک ایڈووکیسی گروپ فلسطینی قیدی کلب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قید خانوں کی سروس کے اعدادو شمار کے مطابق چودہ سے سترہ سال کے درمیان عمر کے جو قیدی رہا کئے گئے، ان میں سے بیشتر کو تحقیقات کے لئے پکڑا گیا تھا، جنہیں کوئی سزا نہیں دی گئی۔

گروپ کا کہنا ہے اسی ہفتے اسرائیل نے دو سو ساٹھ دوسرے فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا۔ ملٹری کورٹ واچ کے مطابق اسرائیلی فوجی عدالت سالانہ سینکڑوں نابالغوں کو سزائیں سناتی ہے۔ جن میں سے بیشتر کو یہ سزائیں پتھراؤ کرنے کے الزام میں دی جاتی ہیں۔اور ان کی عمریں سولہ سے سترہ سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ پتھراؤ خطرناک اور مہلک ہو سکتا ہے۔اسرائیل کے انسانی حقوق کے گروپ ہاموکڈ کے مطابق جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل نے پورے غزہ میں تین ہزار چار سو پچاس فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے۔اور اسرائیل کی شن بیت سیکیورٹی سروس کے سابق ڈائیریکٹر ایمی آئیلون کا کہنا ہے کہ یہ کریک ڈاؤن ایک طرح سے ہمارے مغربی کنارے پر ایک اور محاذ نہ کھولنے کے ارادے کی تردید ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button