بین الاقوامی خبریںسرورق

اسرائیل کا مشرقی یروشلم میں یہودیوں کیلئے نئے 1700 رہائشی یونٹ بنانے کا اعلان

تمام فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دے دی جائے، اسرائیلی وزیر پر پھر جنون طاری

مقبوضہ بیت المقدس ، 7دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی حکام نے مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کے توسیعی منصوبے کے سلسلے میں فیصلہ کیا ہے کہ وہ یہودی آباد کاروں کے لیے 1700 سے زائد نئے گھر تعمیر کرے گی۔ اس منصوبے کا باقاعدہ اعلان اسرائیلی حکام کے حوالے سے ایک غیر سرکاری ادارے نے کیا ہے۔اگر اس وقت اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ نہ چل رہی ہوتی تو یہودی آباد کاروں کے لیے 1700 سے زائد گھر بنانے کے اس منصوبے پر کافی شور اٹھتا۔لگتا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے برسر اقتدار آتے ہی یہودی بستیوں میں جس توسیع کا ارادہ ظاہر کیا تھا، جنگ کے دنوں میں بھی وہ اس پر کاربند رہنے کا نہ صرف عزم کیے ہوئے ہے بلکہ جنگ کے شور سے فائدہ اٹھا کر یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ مزید آگے بڑھانا چاہتی ہے۔یہ امکانی فلسطینی ریاست کے لیے ایک انتہائی مسئلے پیدا کرنے والا ایشو بن سکتا ہے۔ اس امر کا اظہار ایک غیر سرکاری ادارے peace now سے تعلق رکھنے والے ہاگیٹ اوفران نے کیا ہے۔

واضح رہے اسرائیل کے حالت جنگ میں ہونے کے باوجود نیتن یاہو کے زیر قیادت حکومت کے لیے سیاسی محاذ پر ایک بار پھر چیلنجنگ صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔اپوزیشن لیڈر یائر لبید یتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کر چکے ہیں اور اسرائیلی عدالت میں وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے کیسز کی سماعت نئے سرے سے شروع ہوگئی ہے۔ جبکہ بیرونی دنیا میں بھی اسرائیل کی جنگی پالیسی اور ہزاروں فلسطینیوں کے قتل عام کے بعد یاہو حکومت کے لیے سخت ناپسندیدگی پیدا ہو رہی ہے۔


تمام فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دے دی جائے، اسرائیلی وزیر پر پھر جنون طاری

مقبوضہ بیت المقدس، 7دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایٹم بم کے استعمال سے غزہ میں نسل کشی کے مطالبے کے چند دن بعد اب پھر اسرائیلی وزیر سٹپٹا گیا۔ صہیونی ریاست کے ثقافتی ورثہ کے وزیر امیچائی یاہو نے اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔امیچائی یاہو عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت سے القدس میں فائرنگ حملے کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اس دوران انہوں نے فلسطینی قیدیوں کو میدان میں پھانسی دینے اور مستقبل میں قیدیوں کے تبادلے کے کسی بھی معاہدے کو روکنے کا مطالبہ کردیا۔اخبار کے مطابق چند روز قبل القدس میں ہونے والے اس حملے کے دوران اسرائیلی پولیس نے غلطی سے ایک اسرائیلی آباد کار ویل کاسٹل مین کو ہلاک کر دیا تھا جو حملہ آوروں کو مارنے کیلئے مدد کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اسرائیلی عہدیدار نے کہا ہے کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس جنگ میں شہری وہی ہیں جو صحیح طریقے سے برتاؤ کرتے ہیں اور وہی حفاظت کرنے والے ہیں۔ ہمیں ان پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اس واقعہ میں خرابی ہوئی اور یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے۔اسرائیلی وزیر نے عرب اور بین الاقوامی غصے کو جنم دیا تھا جب اس نے پہلے کہا تھا کہ غزہ پر ایٹمی بم پھینکنا ایک ممکنہ حل ہے۔ غزہ کی پٹی کو روئے زمین پر باقی نہیں رہنا چاہیے۔ اسرائیل کو وہاں دوبارہ بستیاں قائم کرنا ہوں گی۔


ہم نے غزہ میں القسام بریگیڈز کے نصف رہنماؤں کو مار دیا: اسرائیلی حکومت

مقبوضہ بیت المقدس ، 7دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلون لیوی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن کے آغاز سے لے کر اب تک کی پٹی میں حماس کی القسام بریگیڈز کے کم از کم نصف رہنماؤں کو مار ڈالا ہے۔لیوی نے غیر ملکی صحافیوں کے لیے منعقد پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آئی ڈی ایف نے اب تک حماس کی بریگیڈز کے نصف رہنماؤں کو مار دیا ہے۔ اسرائیلی افواج بڑی فضائی مدد کے ساتھ غزہ کی پٹی کے اندر پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مہم میں حماس کی عسکری صلاحیتوں میں پہلے ہی نمایاں کمی آگئی ہے۔اس سے قبل بدھ کو اسرائیلی فوج نے ایک فوری کال بھیجی جس میں اس نے ریڈ کراس سے 7 اکتوبر سے حماس کے زیر حراست یرغمالیوں تک پہنچنے کے لیے مداخلت کرنے کا مطالبہ کردیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ غزہ میں وحشیانہ جرائم کے ارتکاب کا بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے باز رہیں۔وولکر ترک نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا میرے انسانی حقوق کے ساتھی اس صورتحال کو تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ان حالات میں مظالم کا بڑا خطرہ موجود ہے۔ فریقین اور تمام ملکوں خاص طور پر اثر و رسوخ رکھنے والے ملکوں کو ایسے جرائم کو ہونے سے روکنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں حماس کو ختم کرنے کے لیے اپنی کارروائیوں کو بڑھا رہی ہے۔ ہم یرغمالیوں کو گھر واپس لانے کے اپنے مشن سے دستبردار نہیں ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا عالمی برادری کو کارروائی کرنی چاہیے۔ ریڈ کراس کو ان 138 قیدیوں تک پہنچنے کے قابل ہونا چاہیے جو حماس کے ہاتھ میں ہیں۔ حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل کے جنوبی سرحدی قصبوں پر شروع کیے گئے اچانک حملے کے دوران 240 اسرائیلیوں کو یرغمال بنایا اور 1200 کے قریب اسرائیلیوں کو مار دیا تھا۔حماس کے سرکاری میڈیا آفس کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر سے ہی غزہ کی پٹی پر بمباری شروع کردی تھی۔ اسرائیلی آپریشن میں 7100 بچوں سمیت 16250 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوء ہے۔۔

اسرائیلی آرمی ریڈیو نے کہا کہ ملٹری اسٹیبلش منٹ میں اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کو غزہ کی پٹی میں ایک ماہ کی زمینی کارروائیوں کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کی نئی بات چیت ہوسکتی ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع گیلانٹ نے کہا ہے کہ حماس غزہ کی پٹی پر کنٹرول کھو رہی ہے اور اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ یہ اسرائیلی فوج کے جنگجوؤں کی فیصلہ کن اور مضبوط کارروائیوں سے حاصل ہوا ہے۔ غزہ میں محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 16,250 سے تجاوز کر گئی ہے۔


اسرائیلی شہر ایلات پر حوثیوں کا بلیسٹک میزائل حملہ

مقبوضہ بیت المقدس، 7دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)یمنی حوثیوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حوثیوں کی طرف سے اسرائیل پر تازہ حملہ بلیسٹک میزائلوں سے کیا گیا ہے۔حوثیوں کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس حوثی حملے کے سلسلے میں بیلسٹک میزائلوں سے اسرائیلی شہر ایلات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔واضح رہے ایلات نامی اسرائیلی شہر اس سے قبل بھی کئی بار اس طرح کے حملوں کی زد میں آچکا ہے۔ تاہم بیلسٹک میزائلوں سے اسے حملے کا ہدف ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں نے پہلی بار بنایا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button