بلڈ پریشر دونوں بازؤوں میں جانچنا چاہیے
بلڈ پریشر کی ریڈنگ ایک کے بجائے دونوں بازوئوں سے لی جانی چاہئے
طبی ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ بلڈ پریشر کی ریڈنگ ایک کے بجائے دونوں بازوئوں سے لی جانی چاہئے۔ ان ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ ہائی بلڈ پریشر یا ہائپر ٹینشن کے لاکھوں مریضوں کی درست تشخیص محض اس وجہ سے ممکن نہیں ہو رہی ہے کہ اس وقت ڈاکٹر ز مروجہ طریقہ کار کے مطابق صرف ایک بازو پر پٹا باندھ کر بلڈ پریشر کی ریڈنگ لیتے ہیں جو غلط ہو سکتی ہے۔ واضح رہے کہ ہائی بلڈ پریشر سے دل کے دورے اور فالج کو تحریک ملتی ہے اور یہی وہ دو عوارض ہیں جو دنیا میں سب سے زیادہ لوگوں کی جان لیتے ہیں۔ 50 ہزار سے زیادہ بالغ افراد کے ایک جائزے میں یہ دیکھا گیا کہ ایک بازو کے مقابلے میں جب دونوں بازوئوں میں بلڈ پریشر کی پیمائش کی گئی تو ان میں فرق موجود تھا۔
جب دونوں بازوئوں کی ریڈنگ لی گئی تو 12 فیصد ان مریضوں کو جنہیں ایک بازو میں بی پی کی پیمائش کے بعد نار مل قرار دیا گیا تھا، انہیں ہائی بلڈ پر یشر میں مبتلا بتایا گیا۔ ڈیون کی یونیورسٹی آف ایگزیٹر میں کام کرنے والے ایک طبی ماہر اور اس تحقیق کے قائد ڈاکٹر کرسٹوفر کلارک نے کہا ہے کہ ’’ہائی بلڈ پر یشر ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے میں ذراسی بھی غفلت جان لیوا ہو سکتی ہے۔ ‘‘
اگر دونوں بازوئوں میں بلڈ پر یشر کی پیمائش نہ کی جائے تو اس سے نہ صرف یہ کہ ہائی بلڈ پریشر کی درست تشخیص نہیں ہو سکے گی بلکہ اگر کوئی ہائی بلڈپریشر کا مریض ہوا تو اس کا بر وقت علاج بھی نہیں ہو سکے گا، اس طرح دنیا بھر میں بلڈ پر یشر کی غلط تشخیص سے لاکھوں افراد کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ پیشگوئی کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ کسی شخص کا کون سا باز و اس معاملے میں بہترین ہے کہ وہ درست بلڈ پر یشر ظاہر کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ کچھ لوگوں کا بایاں بازو دائیں کے مقابلے میں زیادہ ریڈنگ دیتا ہے اور اتنی ہی تعداد دوسرے لوگوں کی ہے جن کا دایاں بازو بائیں کی نسبت زیادہ ریڈ نگ بتاتا ہے اس لئے دونوں بازوئوں کو چیک کرنا اہم ہے۔ ’’ہائی بلڈ پریشر کا درست سراغ لگانا اس جانب ایک اہم قدم ہے کہ صحیح لوگوں کا صحیح علاج ہو سکے۔‘‘ یہ جائزہ طبی جریدہ ’’ہائپر ٹینشن میں شائع ہوا ہے جس میں 53 ہزار ایک سو 72، شر کاء کا تجزیہ کیا گیا۔
ان تمام رضا کاروں کی بلڈ پریشر ریڈنگ صرف ایک کے بجائے دائیں اور بائیں دونوں بازوئوں سے لی گئی تھی۔ بلڈ پریشر کی ریڈنگ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کی شریانوں کی اندرونی دیواروں کو خون کتنی قوت کے ساتھ دھکیل رہا ہے۔ بلڈ پریشر ناپنے والے آلے پر اس کی پیمائش پارے کے ملی میٹر (mmHg) میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ پیمائش دو قسم کی ہوتی ہے ایک اوپر کی پیمائش ہوتی ہے جسے سائسٹولک (Systolic) کہتے ہیں۔ یہ نمبر دل کی اس طاقت کو ظاہر کرتا ہے جس سے وہ خون کو پورے جسم میں پمپ کرتا ہے۔ دوسری نیچے والی پیمائش ہوتی ہے جسے ڈائسٹولک (Diastolic) کہتے ہیں۔ یہ پیمائش اس وقت کے دبائو کو ظاہر کرتی ہے جب دل دھڑکنوں کے درمیان آرام کرتا ہے۔ اگر دونوں میں سے کوئی بھی ریڈنگ بہت بلند ہو تو اس سے شریانوں اور اہم اعضا پر دبائو بڑھ جاتا ہے تاہم ڈاکٹر ز زیادہ توجہ کے قابل سائسٹولک نمبر کو سمجھتے ہیں۔
ڈاکٹر کلارک اور ان کے ساتھیوں نے اپنی تحقیق میں یہ دریافت کیا ہے کہ دونوں بازوئوں کے درمیان سائسٹولک پریشر میں 6.6mmHg کا اوسط فرق تھا۔ جب دونوں بازوئوں کی ریڈنگ لی گئی تو تقریباً6 ہزار 5 سو شر کاء کو ان لوگوں میں شامل کیا گیا جو ہائپر ٹینشن کا شکار تھے اور ان کا سائسٹولک پریشر 140mmHg سے زیادہ تھا۔ دونوں بازوئوں کی ریڈنگ میں فرق کی ایک وجہ بند شریانیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ بین الاقوامی سطح پر یہ ہدایت کی گئی ہے کہ بلڈ پریشر کی جانچ دونوں بازوئوں میں کی جائے لیکن کلینکس میں عام طور پر اس ہدایت پر عمل نہیں کیا جارہا ہے۔
ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مریضوں کو دیکھنے کی فکر اور وقت کی کمی کی وجہ سے صرف آدھے ڈاکٹر ہی مریضوں کے دونوں بازوئوں میں بلڈ پر یشر چیک کرتے ہیں۔
جسم کی خشکی اور خارش ختم کرنے کیلئےآپ کے جسم کو نگہداشت کی اشد ضرورت رہتی ہے۔ فقط نہا لینا کافی نہیں ہوتا۔ آج کل ہم ہرقسم کے صابن کا استعمال کرکے میل کچیل کے ساتھ ساتھ جلد میں پائے جانے والے تیل کے ذخیرے کو بھی بہادیتے ہیں جو کہ بعد میں جسم پر خشکی کا باعث بنتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر فوری تدارک نہ کیا جائے تو مرض بڑھ کر خارش کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ باقی رہی سہی کسر ہم اپنے گندے ناخنوں سے نکال دیتے ہیں۔ جسم پر ناخنوں سے کھجانے سے زخم ہوجاتے ہیں اور جلد انفیکشن کا شکار ہوجاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم ہفتہ میں ایک بار جسم پر کسی اچھے تیل کی مالش ضرور کیا کریں اور اس کے ایک گھنٹے کے بعد نہا لیں۔ اگر نہانے کے پانی میں دوکھانے کے چمچ سرکہ ملا لیا جائے تو افادیت مزید بڑھ جاتی ہے ۔ خصوصاً خارش زدہ مریضوں کو ایسے پانی سے مسلسل نہانا چاہئے تاکہ جسم پر خارش پیدا کرنے والے بیکٹیر یا کا یقینی خاتمہ ہوسکے۔ |



