اسباب و وجوہات-اسقاطِ حمل کیوں ہوتا ہے؟-ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی بنگلور
حمل آخر کیوں ضائع ہوتا ہے
بچے کی پیدائش کی خوشی عموماً اسی وقت شروع ہوجاتی ہے جب والدین کو پہلی بار ماں کے رحم میں اس کی موجودگی کی خبر ملتی ہے۔ اس کے بعد وہ شدت سے اس کے دنیا میں آنکھیں کھولنے کا انتظار کرتے ہیں۔ تاہم بعض اوقات کسی وجہ سے یہ انتظار وقت سے پہلے ختم ہوجاتا ہے اور بچہ ضائع ہو جاتا ہے۔ اگر حمل کے 20 ویں ہفتے سے پہلے بچہ رحم سے باہر آجائے تو وہ زندہ نہیں رہ پاتا۔ اسے اسقاط حمل یا مِس کیرج Miscarriage کہتے ہیں۔ اگرحمل ٹھہرنے کے تقریباً 13 ویں ہفتے میں گرجائے تو اسے قبل ازوقت اسقاط حمل کہتے ہیں جبکہ دوسری سہ ماہی میں گرنے والا دیر سے ضائع ہونے والاحمل کہلاتا ہے۔
اسقاط حمل کی کیفیات کیا ہیں
پہلی قسم وہ ہے جس میں حمل ضائع ہونے کی علامات (مثلاً خون آنا اور کمرکے نچلے حصے میں شدید درد ہونا)ظاہر ہوتی ہیں۔ یہ کچھ دنوں یاہفتوں بعدختم ہو جاتی ہیں۔ ایسی صورت میں حمل ضائع ہونے اور نہ ہونے دونوں کے امکانات ہوتے ہیں۔
دوسری قسم میں بہت زیادہ خون بہتا اور پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ رحم کھل جاتا اور جنین(fetus) خون کے ذریعے باہر نکل آتا ہے۔
تیسری قسم میں حمل کے تمام ٹشوز جسم سے خارج ہوجاتے ہیں اور خواتین کو شدید درد کا سامنا ہوتا ہے۔
چوتھی قسم میں حمل کے کچھ ٹشوز رحم کے اندر ہی موجود رہتے ہیں۔ اس دوران بھی خون آتا ہے اور پیٹ کے نچلے حصے میں شدید درد ہوتا ہے۔
پانچویں قسم میں بچے کی موت واقع ہو جاتی ہے مگر و ہ اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ ایسے میں تھکاوٹ اور متلی اور حمل کی دیگر علامات غائب ہونے لگتی ہیں۔
حمل آخر کیوں ضائع ہوتا ہے
ہر سہ ماہی میں حمل ضائع ہونے کے امکانات اور اس کی وجوہات مختلف ہوتی ہیں۔تقریباً 80 فی صدحمل پہلے تین ماہ میں ہی ضائع ہو جاتے ہیں۔ ان کا زیادہ ترتعلق جنین میں موجود مسائل سے ہوتا ہے۔ مثلاً کروموسومز کی تعداد میں اضافے کے باعث بچے میں خامی پیدا ہو جانا۔
50 سے 80 فی صدکیسز میں یہی وجہ ہوتی ہے۔ بعض صورتوں میں ماں اور بچے کو جوڑنے والا عضو آنول (placenta) مکمل طور پر نہیں بنا ہوتا۔ اس کے باعث بچے تک خون کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور وہ وقت سے پہلے ضائع ہوجاتا ہے۔ ماں کا وزن معمول سے زیادہ یا کم ہونا اور دوران حمل تمباکونوشی، کیفین، الکوحل یا دیگرمنشیات استعمال کرنا بھی اس کا سبب بن سکتا ہے۔
پہلی سہ ماہی کے بعد حمل ضائع ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اگر وہ ضائع ہو تو اس کی وجہ ماں میں تھائی رائیڈ غدود کی خرابی، ذیابیطس، بلڈ پریشر، دل اور گردوں کے امراض اور ہارمونز سے جڑے مسائل ہوسکتے ہیں۔ دیگر وجوہات میں 40 سال کی عمر کے بعد حمل ٹھہرنا، رحم کی ساخت غیر معمولی ہونا(یہ دو حصوں میں تقسیم ہو یا سائز معمول سے بڑا ہو)، رحم میں رسولی ہونا، رحم کی گردن (cervix)پر موجود پٹھے کا کمزوری کے باعث وقت سے پہلے کھل جانا شامل ہیں۔
ماں کا خسرے،ملیریا، رحم، تولیدی اعضاء یا پیشاب کی نالی میں انفیکشن کا شکار ہونا، شدید نوعیت کی فوڈ پوائزننگ ہونا، مخصوص ادویات استعمال کرنا، کمزوری،معدے پر چوٹ لگنا یا بہت زیادہ وزن اٹھانا بھی اس کا سبب بن سکتے ہیں۔
علامات کیا ہیں
اسقاط حمل کی صورت میں خواتین کو ناف کے نیچے موجود حصے،کمر اور ٹانگوں میں دردہوتا ہے۔ ساتھ ہی کپڑوں پر خون کے دھبے لگتے ہیں یا زیادہ مقدار میں خون یا لوتھڑے خارج ہوتے ہیں۔ کچھ خواتین میں ہلکا سا خون آتا ہے جو یوں تو نارمل ہے مگر پھر بھی بہتریہ ہے کہ ڈاکٹر سے رابطہ کر لیا جائے۔
کیسے معلوم ہوگا کہ حمل ضائع ہوا یا نہیں؟
یہ جاننے کے لئے حاملہ خاتون کے پیڑو کا معائنہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ شدید بخار یا خون کی کمی کی شکار تو نہیں۔ اس دوران الٹراساؤنڈ سے بچے کے دل کی دھڑکن چیک کی جاتی ہے اور حمل سے متعلق ہارمونز کی جانچ کے لئے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔
حمل کو محفوظ کیسے رکھیں
حمل ضائع ہونے کا سبب بننے والے امراض کی اگر ویکسین دستیاب ہو تو اسے لگوائیں۔
دوران حمل ضرورت سے زیادہ اور پرمشقت جسمانی سرگرمیاں نہ کریں تاہم ہلکی پھلکی ورزش اور معمول کے کام جاری رکھیں۔
صحت بخش اور متوازن غذا کھائیں تاکہ صحت مند وزن برقرار رکھ سکیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس دوران خواتین کو ایک کے بجائے دو افراد کا کھانا کھانا چاہئے حالانکہ یہ درست نہیں۔ انہیں معمول کی مقدار سے کچھ کیلوریز ہی زیادہ لینا ہوتی ہیں۔
سبزیاں پکانے اور پھل کھانے سے قبل اچھی طرح دھو لیں تاکہ ان پر لگے کیمیکل دھل جائیں۔ مزید برآں گوشت کو مکمل پکائیں۔
ذہنی تناؤ اور پریشانی کا اسقاط حمل سے براہِ راست تعلق نہیں تاہم یہ عمومی صحت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ان سے بچنے کی کوشش کریں۔
پہلی سہ ماہی ختم ہونے تک روزانہ باقاعدگی سے فولک ایسڈکی گولیاں کھائیں۔یہ بچے میں دماغ، حرام مغز اور ریڑھ کی ہڈی کے پیدائشی نقائص سے بچاؤ میں مدد دیں گی۔
تمباکونوشی کرتی ہوں تو اس سے گریز کریں اور ایسی جگہوں پر نہ جائیں جہاں دوسرے سگریٹ پی رہے ہوں۔
حمل ٹھہرنے سے پہلے ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر یا خون کے لوتھڑے بننے کا مسئلہ ہو تو ا س کا علاج کروائیں۔
حمل ٹھہرنے سے پہلے اور اس دوران کیفین کا زیادہ استعمال نہ کریں۔ کیفین کے حامل مشروبات کے دو کپ ایک دن کی ضرورت کو پوراکرنے کے لئے کافی ہیں۔
اسقاط حمل کی کچھ وجوہات پر قابو پانا ہمارے اختیار میں نہیں تاہم غیر صحت بخش عادات (مثلاً تمباکونوشی کرنا) اور لاپروائی (تشخیص کے باوجود بیماری کا علاج نہ کروانا)بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان پر ضرور توجہ دینی چاہئے۔ اگر خدانخواستہ اسقاط حمل ہو جائے تو اس حقیقت کو تسلیم کریں اور یہ خوف دل سے نکال دیں کہ اگر ایک بار ایسا ہوگیاہے تو اگلا ہر حمل ضائع ہو گا۔ یہ محض ایک غلط مفروضہ ہے۔



