قومی خبریں

کشمیر کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے مودی حکومت کے فیصلے پر عدالت عظمیٰ کی مہر

دفعہ 370 کی منسوخی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، ہم اس سے مایوس ہیں ،لیکن دل شکن نہیں ہوئے: عمر عبداللہ

نئی دہلی ، 11دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) سپریم کورٹ کی پانچ ججوں کی آئینی بنچ آرٹیکل 370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کر سکتے ہیں ،اس لئے ان کا ایسا کرنا درست تھا۔جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر آج سپریم کورٹ اپنا فیصلہ سنا رہی ہے۔ ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ ججوں نے اس معاملے میں تین فیصلے لکھے ہیں۔ 5 اگست 2019 کو پارلیمنٹ نے جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کے اثر کو ختم کر دیا اور ریاست کو دو حصوں جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر کے دونوں کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنا دیا۔

مرکز کے ان فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔سی جے آئی نے کہا، جموں و کشمیر کے آئین میں خودمختاری کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ جب ہندوستانی آئین وجود میں آیا تو جموں و کشمیر پر آرٹیکل 370 نافذ ہوا۔سی جے آئی نے کہا کہ آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن دینے کا صدر کا اختیار جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی تحلیل کے بعد بھی برقرار ہے۔ آرٹیکل 370 کی دفعات کو ہٹانے کا حق جموں و کشمیر کے انضمام کا ہے۔ صدر کا آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کا حکم آئینی طور پر درست ہے۔فیصلہ سناتے ہوئے، سی جے آئی نے کہا، آرٹیکل 370 ایک عارضی انتظام تھا۔ جموں کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔ جموں و کشمیر کی کوئی اندرونی خودمختاری نہیں تھی۔اس فیصلے کو پی ایم مودی نے تاریخی قرار دیا ، جب کہ جموں کشمیر کے سابق وزرائے اعلیٰ عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے مایوسی ضرور ہوئی ،لیکن ہماری تحریک جاری رہے گی ۔


دفعہ 370 کی منسوخی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، ہم اس سے مایوس ہیں ،لیکن دل شکن نہیں ہوئے: عمر عبداللہ

سری نگر، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)نیشنل کانفرنس کے نائب صدر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے دفعہ 370 کی منسوخی کو برقرار رکھنے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس سلسلے میں جد وجہد جاری رکھیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں مایوس ہوا ہوں لیکن دل شکن نہیں ہوا ہوں۔بتادیں کہ عدالت عظمیٰ نے پیر کو مرکزی حکومت کے دفعہ 370 کی منسوخی کے فیصلے کو بر قرار رکھا اور الیکشن کمیشن کو جموں وکشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک اسمبلی انتخابات منعقد کرانے کے لئے اقدام کرنے کی ہدایت دی اور انہوں نے جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے فوری اقدام کرنے کی بھی ہدایت دی۔عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سماجی رابطہ گاہ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ میںاس فیصلے سے مایوس ہوں ،لیکن دل شکن نہیں ہوا ہوں، ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔

ان کا پوسٹ میں مزید کہنا تھا کہ بی جے پی کو اس مقام تک پہنچنے کے لئے کئی دہائیاں لگ گئیں اور ہم اس طویل جد وجہد کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم دفعہ 370 کے حوالے سے آخر کار کامیاب ہوں گے۔دریں اثنا ڈیموکریٹک پروگرسیو آزاد پارٹی (ڈی پی اے پی) کے چیئر مین غلام نبی آزاد نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر میڈیا کو بتایا کہ بنیادی طور پر جو 5 اگست 2019 کو دفعہ 370 کی تنسیخ کا فیصلہ تھا وہ غلط تھا وہ جلدی میں لیا گیا فیصلہ تھا اور اس کے متعلق سیاسی جماعتوں کو پوچھا جانا چاہئے تھا۔انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے جموں وکشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک الیکشن کرانے اور ریاستی درجے کی فوری بحالی کی ہدایت دی ہے تو کوئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے اس فیصلے سے ہماری پارٹی اور جموں وکشمیر کے لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔


دفعہ 370 کی منسوخی پر عدالت ِعظمیٰ کے فیصلہ کو پی ایم مودی نے تاریخی قرار دیا

نئی دہلی، 11دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) پی ایم مودی نے کہاہے کہ دفعہ 370ختم کرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے اور اس میں 5 اگست 2019 کو بھارت کی پارلیمنٹ کی طرف سے کئے گئے فیصلے کو آئینی طورپربرقراررکھاگیاہے۔ پی ایم مودی نے یہ بھی کہا کہ عدالت نے اپنی تمام ترعقل ودانش کے ساتھ اتحاد کاتحفظ برقرار رکھا ہے۔ ہم بھارتی شہریوں کو یہ فیصلہ عزیز ہے اورہم اسے تمام امور پرمقدم رکھتے ہیں۔ دفعہ 370ختم کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کا آج کا فیصلہ تاریخی ہے اوراس میں 5اگست، 2019کو بھارت کی پارلیمنٹ کی طرف سے کئے گئے فیصلے کو آئینی طورپربرقراررکھاگیاہے۔یہ جموں، کشمیراورلداخ میں ہمارے بہن بھائیوں کے لئے امید، ترقی اوراتحاد کا اعلامیہ ہے۔ عدالت نے اپنی تمام تر عقل ودانش کے ساتھ اتحاد کے جذبے کی حفاظت کی ہے، جسے ہم بھارتی شہری عزیز رکھتے ہیں اور اسے سارے معاملات سے بالاترسمجھتے ہیں۔میں جموں ، کشمیراورلداخ کے، خود کو حالات کے مطابق بنانے والے لوگوں کو یقین دلاتاہوں کہ آپ کے خوابوں کو پورا کرنے کا ہماراعزم، غیرمتزلزل ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنانے کاتہیہ کئے ہوئے ہیں کہ ترقی کے فائدے نہ صرف آپ تک پہنچیں بلکہ سماج کے ان سب سے زیادہ کمزوراورپسماندہ طبقوں تک بھی پہنچیں،جنھوں نے دفعہ 370کی وجہ سے مصیبتیں اٹھائی ہیں۔آج کا یہ فیصلہ محض کوئی قانونی فیصلہ نہیں ہے،یہ امید کی ایک کرن ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button