امیت شاہ پر تبصرہ کا معاملہ، راہل گاندھی کیخلاف سمن جاری
جب یہ واقعہ ہوا تو وہ بی جے پی کے نائب صدر تھے۔
لکھنؤ ، 17دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) یوپی کے سلطان پور میں ایم پی-ایم ایل اے کی عدالت نے کل گزشتہ ہفتہ کو کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو وزیر داخلہ امیت شاہ پر ان کے ریمارکس کے معاملے میں 6 جنوری کو طلب کیا ہے۔یہ مقدمہ 2018 میں درج کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ راہل گاندھی نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے خلاف ریمارکس کیے تھے اور ان کی توہین کی تھی۔ عدالت نے راہل گاندھی کو ہفتہ کو پیش ہونے کی ہدایت دی تھی لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ یہ کیس بی جے پی لیڈر وجے مشرا نے 4 اگست 2018 کو درج کیا تھا۔راہل گاندھی کیخلاف مقدمہ دائر کرنے والے وجے مشرا کے وکیل سنتوش پانڈے نے کہا کہ سلطان پور کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے اس معاملے میں راہل گاندھی کو 16 دسمبر کو طلب کیا تھا، لیکن وہ پیش نہیں ہوسکے۔ اب عدالت نے ان کے خلاف سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 6 جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
راہل گاندھی کیخلاف مقدمہ درج کرنے والے وجے مشرا نے بتایا تھا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو وہ بی جے پی کے نائب صدر تھے۔ راہل گاندھی نے بنگلورو میں امت شاہ پر الزام لگایا تھا کہ وہ قاتل ہیں۔وجے مشرا نے کہا کہ یہ الزامات سن کر مجھے بہت دکھ ہوا کیونکہ میں پارٹی کا 33 سالہ کارکن ہوں۔ وجے مشرا نے اے این آئی کو بتایا کہ میں نے اپنے وکیل کے ذریعے اس سلسلے میں شکایت درج کروائی اور یہ تقریباً 5 سال تک جاری رہا۔ بتایا گیا کہ 2018 میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے بنگلورو میں پریس کانفرنس کی تھی،جہاں راہل گاندھی نے امت شاہ کے خلاف قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔



