ایودھیا کی دھنی پور والی مسجد کا پرانا نقشہ تبدیل،نیا مجوزہ نقشہ جاری
ایودھیا کے دھنی پور میں محمد بن عبداللہ مسجد بنائی جا رہی ہے۔
ممبئی ،20دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایک طرف، ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر تقریباً تیار ہے جس میں 22 جنوری 2024 کو اس کی تقریب منعقد ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی رام مندر سے تقریباً 26 کلومیٹر دور ایودھیا کے دھنی پور میں محمد بن عبداللہ مسجد بنائی جا رہی ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ مسجد تاج محل سے ’زیادہ خوبصورت‘ ہوگی۔ ایودھیا تنازعہ میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اتر پردیش حکومت نے مسجد کی زمین مسلمانوں کو دی تھی۔ایودھیا میں بننے والی اس مسجد کا نام مسجد محمد بن عبداللہ ہے۔ ممبئی میں مقیم بی جے پی رہنما حاجی عرفات شیخ، مسجد محمد بن عبداللہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ایودھیا میں بننے والی نئی مسجد ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد ہوگی۔
رام مندر کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یوپی حکومت کی جانب سے مسجد کے لیے 5 ایکڑ زمین دی گئی، جو اس کی تعمیر سے پہلے ہی موضوع بحث بن گئی ہے۔ایودھیا مسجد محمد بن عبداللہ ڈیولپمنٹ کمیٹی کے چیئرمین حاجی عرفات شیخ نے تفصیلی معلومات دیتے ہوئے کہا کہ ایودھیا کی مجوزہ مسجد میں پہلی نماز امام حرم پڑھائیں گے۔ حاجی عرفات شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس کی خوبصورتی تاج محل کو پیچھے چھوڑ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب شام ہوگی تو مسجد میں چشمے جاری ہوں گے۔ ایودھیا مسجد کی عمارت بھی مذہب اور ٹیکنالوجی کا سنگم ہوگی۔
ایک بڑی کشش وضو خانہ کی جگہ کے قریب بہت بڑا ایکویریم ہوگا جس میں مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ حصے ہوں گے۔حاجی عرفات شیخ کے مطابق اس مسجد میں 5 ہزار مرد اور 4 ہزار خواتین سمیت 9 ہزارزائرین ایک ساتھ نماز ادا کر سکیں گے۔ مسجد میں 5 مینار ہوں گے جو اسلام کے پانچ ستونوں کی علامت ہوں گے: نماز، روزہ، زکوٰۃ، توحید اور حج۔ انہوں نے بتایا کہ پورے مسجد کمپلیکس میں طبی، تعلیمی اور سماجی سہولیات ہوں گی۔اس مسجد کے علاوہ کمپلیکس میں 500 بستروں پر مشتمل کینسر اسپتال، اسکول اور لاء کالج، ایک میوزیم اور لائبریری اور مکمل طور پر ویج کچن بھی ہوگا، جہاں آنے والوں کو مفت کھانا فراہم کیا جائے گا۔



