کاشی – متھرا مساجد کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا سروے کے متعلق فیصلہ قبول: مولانا ارشد مدنی
عدالت نے کہا کہ کسی بھی فریق کی درخواست پر سماعت کو غیر ضروری طور پر ملتوی نہیں کیا جانا چاہیے۔
نئی دہلی ،20دسمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) جمعیت علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے اتر پردیش کے متھرا میں شاہی عیدگاہ اور وارانسی میں گیان واپی مسجد کے معاملہ پر بڑا ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے عدالت کے فیصلے کے حوالے سے اپنا موقف بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کریں گے۔ سپریم کورٹ ہماری عدالت ہے۔ ہمیں اس پر یقین ہے۔ مدنی نے کہا کہ عبادت گاہوں کے قانون کا احترام کیا جانا چاہیے۔متھرا اور وارانسی میں سروے کے سوال پر مدنی نے کہا کہ سروے کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اگر سروے درست ہوا تو وہاں مسجد رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا کی جگہ ہماری تھی۔
اگر اس کے بدلے میں مسجد کے لیے زمین دی جائے تو ہمیں لینے کا کوئی حق نہیں۔آپ کو بتاتے چلیں کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل کو گیان واپی مسجد کمپلیکس کی ملکیت اور گیان واپی کمپلیکس کا جامع سروے کرنے کی ہدایت کو لے کر وارانسی کی عدالت میں زیر التوا اصل مقدمہ کی برقراری کو چیلنج کرنے والی پانچوں درخواستوں کو مسترد کر دیا۔
جج جسٹس روہت رنجن اگروال نے سماعت کے دوران کہا کہ وارانسی کی عدالت میں سال 1991 میں دائر اصل مقدمہ قابل سماعت (سماعت کے قابل) ہے اور یہ عبادت گاہوں کے قانون 1991 کے تحت ممنوع نہیں ہے۔ عدالت نے نچلی عدالت کو ہدایت دی کہ اس کے سامنے زیر التوا کیس کی جلد سماعت کرے اور چھ ماہ کے اندر فیصلہ کرے۔
عدالت نے کہا کہ کسی بھی فریق کی درخواست پر سماعت کو غیر ضروری طور پر ملتوی نہیں کیا جانا چاہیے۔اگر کوئی عبوری حکم ہو تو اسے ہٹا دیا جاتا ہے۔ اگر ضروری ہو تو، نچلی عدالت آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کو مزید سروے کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔ دوسری طرف ہائی کورٹ کے فیصلے پر وارانسی کی گیان واپی مسجد کی انتظامی کمیٹی نے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے منگل کو کہا کہ وہ تھالی میں سجاکر کچھ نہیں دے گی اور آخری سانس تک قانونی جنگ لڑے گی۔



