سیول سپلائز کارپوریشن 56 ہزار کروڑ کا مقروض : اتم کمار ریڈی
تقریبا 12 ہزار کروڑ روپئے کے نقصان میں ، بی آر ایس حکومت نے کبھی سبسیڈی جاری نہیں کیا
حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ریاستی وزیر سیول سپلائز اتم کمار ریڈی نے کہا کہ محکمہ سیول سپلائز پر 56 ہزار کروڑ روپئے کا جہاں قرض ہے وہیں محکمہ تقریبا 12 ہزار کروڑ روپئے کے نقصان میں ہے ۔ اسمبلی میں بیان دیتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں سیول سپلائی کارپوریشن کو صرف چاول تقسیم کرنے اور دھان حاصل کرنے کے ادارے تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر قرض صرف 3 ہزار کروڑ روپئے تھا ماضی کی حکومتیں کارپوریشنس کو سبسیڈی فراہم کیا کرتی تھی بی آر ایس حکومت نے ایک سال بھی سبسیڈی فراہم نہیں کی جس کی وجہ سے قرض بڑھ کر 56 ہزار کروڑ روپئے تک پہونچے ۔
حکومت کا مناسب تعاون نہ ملنے کی وجہ سے نقصانات بڑھ کر 11.500 ہزار کروڑ روپئے تک پہونچ گئے ۔ کارپوریشن کو سالانہ 3 ہزار کروڑ روپئے صرف سود ادا کرنا پڑ رہا ہے ۔ 22 ہزار کروڑ ٹن دھان رائس ملرس کے پاس ہے سال 2018-19 کا آڈٹ اب مکمل ہورہا ہے ۔ مرکزی حکومت 5 کلو اور ریاستی حکومت ایک کلو چاول سربراہ کررہی ہے ۔ کانگریس کے دور حکومت میں راشن شاپس سے 9 اشیاء تقسیم کی جاتی تھی اب صرف چاول تقسیم کیا جارہا ہے ۔ جس کی کوالٹی بھی ٹھیک نہیں ہے ۔ 70 تا 72 فیصد لوگ چاول نہیں کھا رہے ہیں ۔
دیگر کاموں میں استعمال ہورہا ہے ۔ کرناٹک اور تاملناڈو کی حکومتوں نے تلنگانہ سے چاول خریدنے کی پیشکش کی تھی مگر سیاسی وجوہات کی وجہ سے انہیں چاول فروخت نہیں کیا گیا ۔ اتم کمار ریڈی نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے با قاعدگیوں کی بھی تحقیقات کرائی جائے گی اور قصور واروں کو سزا دی جائے گی ۔



