تلنگانہ کی خبریںسرورق

کالیشورم پراجکٹ پر ریونت ریڈی اور ہریش راؤ میں نوک جھونک

برسر خدمت جج سے تحقیقات کرائی جائیں : ہریش راؤ، غلط معلومات پر ارکان کے خلاف کارروائی : چیف منسٹر

حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) تلنگانہ اسمبلی میں کالیشورم پراجکٹ کے مسئلہ پر چیف منسٹر ریونت ریڈی اور بی آر ایس رکن اسمبلی ہریش راؤ کے درمیان نوک جھونک ہوئی جس میں دونوں نے کالیشورم پراجکٹ میں مبینہ بدعنوانیوں پر اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ایوان میں معاشی صورتحال پر حکومت کی جانب سے پیش کردہ وائیٹ پیپر پر مباحث کے دوران ہریش راؤ نے کالیشورم پراجکٹ اور دیگر پراجکٹس کے معاملات کی ہائی کورٹ کے برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آگ میں ڈالنے پر ہی سونے کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی چیف منسٹر کے عہدہ پر ابھی نئے ہیں اور مسائل کو سمجھنے کیلئے وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم کارپوریشن کے تحت جو قرض حاصل کیا گیا وہ صرف کالیشورم پراجکٹ کیلئے نہیں بلکہ دیگر آبپاشی پراجکٹس کیلئے بھی تھا۔

پالمور رنگاریڈی پراجکٹ پر بھی یہ رقم خرچ کی گئی۔ ہریش راؤ نے کہا کہ آپ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے وسائل اکٹھا کیجئے لیکن ہم کو مورد الزام ٹہرانے کی کوشش نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست کو مالی بحران کا شکار بتایا جائے تو ریاست کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے اور قومی اور بین الاقوامی ادارے سرمایہ کاری کیلئے نہیں آئیں گے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ کالیشورم کی مالیت سے کہیں زیادہ ایک لاکھ کروڑ کے کرپشن کا کانگریس الزام عائد کررہی ہے اور حقائق کا پتہ چلانے کیلئے بی آر ایس برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کی مانگ کرتی ہے۔ اس موقع پر مداخلت کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ 2014 سے 2016 تک ہریش راؤ آبپاشی کے وزیر رہے بعد میں کے سی آر نے آبپاشی کا قلمدان اپنے ذمہ رکھا۔

ریونت ریڈی نے کہا کہ ساڑھے نو سال تک آبپاشی کا قلمدان چیف منسٹر اور ان کے افراد خاندان کے پاس رہا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کی لاگت 80 ہزار کروڑ نہیں ہے کیونکہ اریگیشن پراجکٹ کارپوریشن نے 97449 کروڑ قرض حاصل کیا ہے۔ قرض کی رقم حکومت کی جانب سے خرچ کی گئی۔ ہریش راؤ پر ایوان کو گمراہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ 2014 سے قبل کیا عوام کو پینے کا پانی میسر نہیں تھا، کیا بی آر ایس برسراقتدار آنے کے بعد ہی عوام کو پینے کا پانی سربراہ کیا گیا۔

مشن بھگیرتا کے تحت 5000 کروڑ کی آمدنی کا بھروسہ دلاکر قرض حاصل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم کے پانی کو فروخت کرتے ہوئے 5 ہزار کروڑ کی آمدنی کا تخمینہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھاری قرض کے حصول کا اعتراف کرنے کے بجائے ہریش راؤ حکومت کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زائد سود پر قرض کے حصول پر سی اے جی نے بھی اعتراض جتایا ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ کالیشورم اور مشن بھگیرتا سے حکومت کو10800 کروڑ آمدنی کی امید تھی۔ ریونت ریڈی نے وزیر امور مقننہ سریدھر بابو کو مشورہ دیا کہ ایوان میں غلط معلومات رکھنے اور ایوان کو گمراہ کرنے کے ذمہ دار ارکان کے خلاف کارروائی کریں۔ چیف منسٹر کے جواب کے بعد ہریش راؤ نے کہا کہ وہ حقائق کا پتہ چلانے کیلئے برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button