غزہ:المغازی کیمپ پر وحشیانہ اسرائیلی بمباری میں 70 فلسطینی شہید، کوئی جگہ محفوظ باقی نہیں رہ گئی
، غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد فوجی حراست میں بھی جاری
غزہ، 25دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں قائم المغازی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی فوج نے رات گئے ایک خوفناک خونی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دسیوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں۔ شہداء اور زخمیوں میں زیادہ تر عام شہری، بچے اور خواتین شامل ہیں۔گذشتہ رات اسرائیلی قابض فوج کی طرف سے غزہ کے المغازی پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی فوج کی جنگی طیاروں، ٹینکوں اور توپوں سے گولہ باری کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینیوں کو شہید کرتے ہوئے ان کے گھروں کو ان کا مدفن بنا دیا گیا۔ گھروں پر بمباری میں اب تک 70 شہداء کی نعشیں نکالی گئی ہیں جبکہ بچوں اور خواتین سمیت دسیوں افراد اب بھی ملے تلے دبے ہوئے ہیں۔
امددی کارکنوں کو متاثرہ علاقے میں رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے المغازی کیمپ میں توپ خانے کی گولہ باری اور جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں 70 شہداء کی نعشوں کو ہسپتالوں میں لائے جانے کی تصدیق کی ہے۔ بہت سی نعشیں ناقابل شناخت ہیں جبکہ کئی شہریوں کے جسم کے صرف اعضا ملے ہیں۔ تباہ ہونے والے گھروں اور عمارتوں کے ملبے تلے سیکڑوں افراد اب بھی دبے ہوئے ہیں اوران میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔القدرہ نے کہا کہ المغازی کیمپ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک پرہجوم رہائشی علاقے میں فلسطینیوں کی کھلم کھلا نسل کشی ہے۔
راگ گئے حملے میں قابض فوج نیشہریوں پر بھاری بم گرائے جہاں بے گھر ہونے والے سیکڑوں خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔انہوں نے نشاندہی کی کہ اسرائیلی قابض فوج وسطی علاقے میں کیمپوں کے درمیان مرکزی سڑک پر بمباری کر رہی ہے تاکہ ایمبولینسوں اور شہری دفاع کی گاڑیوں کو نشانہ بنا کر انہیں متاثرہ مقامات تک جانے سے روکا جا سکے۔ہلال احمر سوسائٹی نے کہا کہ قابض فورسز نے اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے بھاری ہتھیاروں سے بم باری کی جس کی وجہ سے البریج، المغازی اور النصیرات کیمپوں کے درمیان اہم سڑکیں منقطع ہوگئیں، جس سے ایمبولینس اور ریسکیو عملے کے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔سرکاری میڈیا کے دفتر نے کہا کہ اسرائیلی قابض فوج نے وسطی غزہ کی پٹی میں المغازی کیمپ میں قتل عام کیا، سالم اور النصرہ خاندانوں کے 3 آباد مکانوں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
دفتر برائے اطلاعات کے مطابق صہیونی غاصب فوج نے المغازی کیمپ پر کم سے کم 50 خوفناک اور تباہ کن حملے کیے جن میں بے پناہ جانی نقصان ہوا ہے۔ گرائے جانے والے بموں نے ہر طرف آگ لگا دی۔غزہ کی پٹی میں سات اکتوبر سے جاری اسرائیلی بربریت میں اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 20424 ہوگئی جب کہ 54 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔ حماس نے المغازی کیمپ پر اسرائیلی فوج کی طرف سے خون کی ہولی کھیلنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صریح عالمی جرم قرار دیا ہے۔
حماس نے ایک بار پھر عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور جنگی جرائم پر اسرائیلی ریاست کے نام نہاد لیڈروں کو کہٹرے میں لایا جائے۔قبل ازیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کے روز زور دے کر کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں 7 اکتوبر سے جاری جنگ کی ہم نے بھاری قیمت چکائی اور آج بھی چکا رہے ہیں۔
غزہ کے فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد فوجی حراست میں بھی جاری
مقبوضہ بیت المقدس، 25دسمبر (اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران پر تشدد اسرائیل کا پرانا وطیرہ ہے لیکن ان دنوں غزہ سے گرفتاری کیے گئے فلسطینیوں کو اسرائیل فوج بھی اپنے حراستی مراکز میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ بات دو رہائی پانیوالے قیدیوں اور طبی عملے کے ایک رکن نے بتائی ہے، تاہم اسرائیلی فوج نے اسے الزام قرار دیا ہے اور تردید کی ہے۔یہ دو افراد ان سینکڑوں قیدیوں میں شامل رہے جنہیں جنگ کے دوران اسرائیلی زمینی فوج نے حملے کر کے گرفتار کیا ہے۔ اسرائیلی فوج ہر فلسطینی کو گرفتار کرتے وقت حماس کا ساتھی قرار دے کر گرفتار کرتی ہے۔جنوبی شہر رفح کے ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان الحس نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی قید سے رہا ہونے والے تقریباً 20 افراد جسموں پر زخموں کے نشانات ہیں۔
اب دونوں رہائی پانے والے افراد کو النجر ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔اس کے باوجود اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ‘ اسرائیلی فوج بین الاقوامی قوانین کے مطابق قیدیوں کے ساتھ سلوک کرتی ہے۔ یہ بھی کہا ہے کہ قید کے دوران قیدیوں کو مناسب خوراک قواعد کے مطابق علاج کی سہولت بھی دی جا رہی ہے۔بائیس سالہ نائف علی نے بتایاکہ مجھے غزہ شہر کے مشرقی زیتون کے مضافاتی علاقے سے حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد میں اسے اسرائیلی حراستی مرکز میں لے جایا گیا تھا۔نائف کی کلائیاں اور جسم کے دیگر حصے کٹے ہوئے تھے۔نائف علی نے کہا دو ون تک ہمارے ہاتھ پیچھے کی طرف باندھ کر رکھا گیا۔ حتیٰ کہ ہمیں کچھ کھانے یا پینے کو بھی نہیں دیا گیا نہ اس کی اجازت تھی۔
ٹائلٹ تک جانے کی اجازت نہ دی جاتی تھی۔ صرف تشدد کیا جاتا تھا۔علی نے کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد کو اسرائیل کے ساتھ سرحد کے ساتھ ایک ایسے علاقے میں رکھا گیا تھا جہاں جمی ہوئی سردی کے باوجود ہمیں جیل منتقل کرنے سے پہلے ہم پر ٹھنڈا پانی پھینکا گیا اور بعد ازاں پھر تشدد کیا گیا۔خامس البردینی 55 سالہ فلسطینی ہیں۔ انہیں بھی حراست کے دوران اسی طرح تشدد کا نشانہ بنیا گیا۔ ان کا کہان ہے تشدد کرتے ہوئے رات بھر ہمارے سروں پر ٹھنڈا پانی بہایا جاتا رہا۔



