سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

داڑھی رکھنے کا شرعی حکم اور غلط فہمیاں-قاضی محمدفیاض عالم قاسمی

ہمارے آقا کسریٰ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا،

شاہ ایران کسریٰ کے دو قاصد رسول ﷺ کی خدمت میں آئے، انھوں نے ڈاڑھی منڈا رکھی تھی، آپ نے ان کی طرف دیکھنا بھی پسند نہیں کیا، کہا کہ تمہارا ناس ہو، تم نے یہ کیسی شکل بنا رکھی ہے، انھوں نے کہا کہ ہمارے آقا کسریٰ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا، آپ نے ارشاد فرمایا کہ میرے پرور دگار نے مجھے داڑھی بڑھانے اور مونچوں کو تراشنے کا حکم دیا ہے۔ داڑھی رکھنے، داڑھی چھوڑنے اور داڑھی بڑھانے کے بارے میں کثرت سے روایتیں آئی ہیں؛ اس لئے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ڈاڑھی کا مونڈنا حرام ہے، ایک مشت رکھنا واجب ہے۔

چاروں مکاتبِ فقہ یعنی فقہ حنفی، مالکی ، شافعی اور حنبلی کا اس پر اتفاق ہے، کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے۔اسی طرح فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ داڑھی مونڈنے والے کی اقامت اور امامت مکروہ تحریمی ہے؛کیوں کہ وہ فاسق ہے، دین کے ایک ایسے امر کی جس کے بارے میں کثرت سے حدیثیں وارد ہوئی ہیں، جوانسانی فطرت میں سے ہے، انبیاء علیہم السلام کی سنت اور طریقہ رہا ہے،خلاف ورزی کررہا ہے؛ تو وہ اقامت اور امامت جیسی عظیم الشان عبادت کو کیسے انجام دے سکتا ہے؟ ہاں اگر مجبوری ہوتو اقامت بھی کہہ سکتا ہے اور نماز بھی پڑھا سکتا ہے۔

آپ کوئی سامان خریدنے کے لئے جاتے ہیں تو اعلیٰ سے اعلیٰ کوالیٹی تلاش کرتے ہیں۔ کسی ہوٹل میں کھانے کے لئے جاتے ہیں تو اپنی پسندکے مطابق کھانا کھاتے ہیں، کسی کو کوئی ہدیہ پیش کرتے ہیں تو آپ کی خواہش ہوتی ہے کہ اُنھیں جو پسند ہو وہی دوں، تو نماز جیسی عظیم الشان عبادت کے بارے میں بھی یہی تصور رکھنا چاہئے کہ تمام سنن و آداب کی رعایت کے ساتھ پڑھی ہوئی نماز بارگاہ خداوندی میں پیش کروں۔دنیا کے سارے کاموں میں آپ اچھا سے اچھا کرنےکی کوشش کرتے ہیں ، لیکن نماز میں صرف جواز یعنی ” کام چلاؤ "والا تصور رکھتے ہیں،کیا یہی آپ کا ایمانی تقاضہ ہے؟

ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب داڑھی مونڈے شخص کی اقامت اور امامت مکروہ ہے، تو اس کاچندہ مدرسہ اور مسجد کے لئے کیوں لیاجاتاہے؟

رسول ﷺ نے تو کافر سے بھی ہدیہ لیا ہے، دعوت قبول کی ہے، اور چندہ بھی لیا ہے۔ امام بخاریؒ نے تو باضابطہ باب قائم کیا ہے کہ مشرکین سے ہدیہ قبول کرنے کاباب۔اس میں ہے کہ ایک نصرانی نے آپ ﷺ کو ایک جبہ ہدیہ میں پیش کیا،(صحیح بخاری)شاہ ایران کسریٰ نے آپ کے لئے ہدیہ بھیجا تو آپ نے قبول فرمایا۔(سنن ترمذی:۱۵۷۶)جب رسول ﷺ ہجرت کرکے مدینہ جارہے تھےتو ایک غیرمسلم کی بکری سے دودھ پیاتھا۔(مسنداحمد)۔

مکہ میں قیام کے دوران کئی مشرکین نے اور مدینہ میں قیام کے دوران کئی یہودیوں نے آپ ﷺ کی دعوت کی ،اور آپ نےان کی دعوت قبول بھی فرمائی، ان کے گھر تشریف لئے گئے اور کھانا تناول فرمایا۔اس لئے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ غیرمسلم کامال مسجد،مدرسہ وغیرہ کے لئے سکتے ہیں،غیرمسلم ذمی کی طرف سےمسجدمدرسہ کے لئے وقف کیاجانابھی درست ہے۔ بشرطیکہ وہ اس کو کارخیر سمجھتا ہو۔جب غیرمسلم کا مال لے سکتے ہیں تو کسی فاسق و فاجر کا مال مسجداور مدرسہ کے لئے بدرجہ اولیٰ لے سکتے ہیں۔کیوں کہ فسق کا گناہ کفر سے بہرحال کمتر ہے۔

دراصل چندہ کاتعلق انسان کے حالات سے نہیں ہے بلکہ مال سے اوردینے والے کی نیت سے ہے۔ اگر مال حلال ہے اور مقصد بھی درست ہے تو ہدیہ اور چندہ وغیرہ درست ہے۔ اوراگر مال ہی حرام ہے یا مقصد درست نہیں ہے تو ہدیہ اورچندہ لینا بھی درست نہیں ہے۔

جہاں تک رہی بات خضاب، دسترخوان،لباس،اونٹ اور گھوڑے کی سواری کی۔ یقینایہ ساری چیزیں رسول ﷺ سےثابت ہیں، لیکن چوں کہ ان امورسے متعلق تاکید ثابت نہیں ہے، رسول ﷺ کی طرف سے عمل نہ کرنے پر ناگواری بھی ثابت نہیں ہے، اس لئے ان کی حیثیت داڑھی کی حیثیت سے کم ہے،چنانچہ فقہاء کرام نے احادیث مبارکہ،صحابہ کرام کےطریقے وغیرہ کو دیکھ کران کی مختلف حیثیتیں مقررکی ہیں۔ چنانچہ دسترخوان بچھاکر کھانے کو سنت،کالے رنگ کےعلاوہ خضاب لگانے کو مستحب،اور ایک سالن والے کھانے کو بہترکہا ہے۔

معاشرہ میں متقی و پرہیزگار لوگوں کےلباس کواچھا لباس گردانا ہے۔دوسرے الفاظ میں ان امورکو سنن زوائد اورامورعادیہ میں شمار کیا ہے۔ اونٹ اور گھوڑے کی سواری کو صرف مباح قراردیا ہےکہ کرے تو ٹھیک ،نہ کرے تو بھی ٹھیک ہے۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے آج کل بائک اور موٹر وغیرہ سے سفرکرنے کاحکم لگایاجائے گا کہ ان ذرائع سے سفر کرنا مباح ہے، سنت یا واجب نہیں ۔

ذرا غور کیجئے اگر داڑھی کی طرح ان چیزوں کو بھی واجب قرار دیا جاتا،یعنی اگر کوئی اونٹ اور گھوڑے سے سفر نہیں کرتا تو وہ فاسق و فاجر ہوتا،تو جو لوگ اونٹ اور گھوڑا خرید نہیں سکتے ہیں، یا جن علاقوں میں اونٹ اورگھوڑے نہیں ہوتے ہیں یا کم ہوتے ہیں، ان کےلئے بڑی دشواری ہوتی، عمل نہ کرنے پر سب کے سب گنہگار ہوتے۔یہ حکم یقیناً ان کے لئے حرج عظیم ہوتا،حالاں کہ حرج عظیم شریعت کے مزاج خلاف ہے، قرآن کریم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین میں حرج نہیں رکھاہے۔(سورۃ الحج:۷۸)

برخلاف داڑھی کے کہ اس کو رکھنےمیں کوئی دشواری نہیں ہے۔ ایک پیسہ بھی خرچ کرنا نہیں پڑتاہے،اس پر عمل کرنا امیر و غریب ،عرب وعجم ہرعلاقہ کےلوگوں کے لئےآسان ہے۔اس لئے فقہاء کرام نےقرآنی آیات اوراحادیث مبارکہ میں خوب خوب غوروفکرکرکےاحکام کی درجہ بندی کی ہے۔

اس سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن وحدیث کو سلفِ صالحین، صحابہ کرام،تابعین، اور تبع تابعین ، بزرگان دین کی تشریح کے دائرہ میں رہ کرسمجھیں گے تو عافیت میں رہیں گے اوراگران کے طریقے سے ہٹ کرسمجھنے کی کوشش کریں گے تو ٹھوکر کھانا پڑے گا، اور یہ ٹھوکر پتہ نہیں کہاں لے جاکر گرائے گی؟

متعلقہ خبریں

Back to top button