یوپی میں ایکشن موڈ میں کانگریس، علمائے کرام سے رابطہ کی مہم شروع
لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر کانگریس اتر پردیش میں کافی سرگرمی دکھا رہی ہے.
سہارنپور ، 28دسمبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) لوک سبھا انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر کانگریس اتر پردیش میں کافی سرگرمی دکھا رہی ہے. 500 کلومیٹر یوپی جوڑو یاترا کے 8 دن مکمل ہو چکے ہیں اور سہارنپور کے کانگریس لیڈر عمران مسعود نے علما سے رابطہ قائم کرنے کی ایک نئی مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کی شروعات گنگوہ سے کی گئی ہے۔ علماء سے ربط کے دوران ایک درجن لیڈر مختلف مدارس اور خانقاہوں کا دورہ کر کے شیعہ اور سنی علمائے کرام سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس دوران تمام طرح کے گلے شکوے دور کر کے ملک کے مفاد میں کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی جا رہی ہے۔اس کارواں بیداری ملت میں سجادہ نشین درگاہ مخدوم علاؤالدین علی احمد صابر کلیر کے سجادہ نشین علی شاہ منظر صابری، شاہ قطب عالم گنگوہ سے شاہ مہتاب عالم شیخ الہند مولانا محمود الحسن کے پوتے ،اور شیعہ برادری میں انتہائی قابل احترام اور جوگی پورہ درگاہ کے مولانا فرحت میاں جیسے علمائے شامل ہیں۔
یہ وفد بدھ کے روز بریلی پہنچا اور اعلیٰ حضرت درگاہ میں علمائے کرام سے گفتگو کی۔ اس حوالہ سے عمران مسعود نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارا مواصلاتی نظام کمزور ہو چکا تھا، ہم اسے مضبوط کر رہے ہیں اور علمائے کرام سے گفتگو کر کے اپنی غلطیوں کی اصلاح کر رہے ہیں۔عمران مسعود نے کہا کہ رابطہ مہم کی تحریک گنگوہ میں واقع درگاہ شاہ قطب سے ملی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ وہ مدارس اور خانقاہوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں،بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ مدارس اور خانقاہیں معاشرے کو بیدار اور زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ جب تک ہم میں سچ بولنے کی ہمت نہیں ہوگی، ہم زندہ کیسے رہ سکتے ہیں؟ اس رابطہ مہم کے ذریعے ہم علمائے کرام کو طبقہ کے سیاسی مسائل سے آگاہ کر کے ان سے مدد مانگ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیوبند، بریلی اور جوگی پورہ کے ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔ آج کمیونٹی کو سیاسی بیداری کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر جگہ بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔



