
ہندوستان پر دباؤ بنانے کیلئے پاکستان دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے : جے شنکر
اصل مسئلہ یہ ہے کہ خالصتانی قوتوں کو کینیڈا کی سیاست میں کافی جگہ دی گئی ہے
نئی دہلی، 2 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے۔پاکستان کی بنیادی پالیسی دہشت گردی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے اب وہ کھیل کھیلنا چھوڑ دیا ہے اور پڑوسی ملک کی دہشت گردی کی پالیسی کو غیر متعلقہ بنا دیا ہے۔ پاکستان اکثر سرحد پار سے دہشت گردوں کو مذموم مقاصد کے لیے ہندوستان بھیجتا ہے۔ایک خبر رساں ایجنسی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں جے شنکر نے کہا کہ پاکستان بات چیت کے لیے ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے طویل عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا استعمال کر رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے لیکن ہم ان شرائط کی بنیاد پر مذاکرات نہیں کریں گے جو انہوں نے (پاکستان) نے پیش کی ہیں، جن میں دہشت گردی کے عمل کو انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جائز اور کارگر سمجھا جاتا ہے۔
کینیڈا میں خالصتانی سرگرمیوں کے پھیلاؤ کے بارے میں بات کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ خالصتانی فورسز کو ہندوستان اور کینیڈا کے سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے جگہ دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ خالصتانی قوتوں کو کینیڈا کی سیاست میں کافی جگہ دی گئی ہے۔ اور انہیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی آزادی دی گئی ہے جو تعلقات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔میرے خیال میں یہ نہ تو ہندوستان کے مفاد میں ہے اور نہ ہی کینیڈا کے مفاد میں۔ہندوستانی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ملک کے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی چین پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ نے کہا کہ آج چین کی پالیسی سے متعلق پہلے کی باتوں کو سمجھنا بہت مشکل ہے۔ پنچ شیل معاہدہ بھی اس کی ایک مثال ہے۔



