مقبوضہ بیت المقدس، 3 جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)صرف پندرہ فیصد اسرائیلی چاہتے ہیں کہ غزہ میں حماس کے خلاف جنگ ختم ہونے بعد وزیر اعظم نیتن یاہو اپنے عہدے پر برقرار رہیں۔شائع ہونے والے ایک عوامی جائزے کے مطابق مزید بہت سے لوگ اب بھی فلسطینی علاقے میں جنگجوؤں کو کچلنے کی ان کی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔نیتن یاہو نے جنوبی اسرائیل میں سات اکتوبر کے حملے بعد حماس کو بالکل تباہ کردینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس حملے میں 1200 لوگ مارے گئے تھے اور دو سو چالیس کو اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا تھا۔ اسرائیلی افواج نے اپنی کوئی تین ماہ کی جوابی کارروائی میں غزہ کے بڑے حصے کو کھنڈر بنادیا ہے۔نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس قسم کے شدید فوجی دباؤ کی یہ یقینی بنانے کے لیے بھی ضرورت ہے کہ وہ بقیہ 129 یرغمال بھی واپس آ جائیں، جنہیں غزہ میں رکھا گیا ہے۔اس سے قبل لگ بھگ 100 یرغمال نومبر کے اواخر میں، تبادلے کے ایک سمجھوتے کے تحت آزاد کر دیے گئے تھے جس کے تحت سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کو بھی آزاد کر دیا گیا تھا۔
اسرائیل ڈیمو کریسی انسٹیٹیوٹ یا آئی ڈی آئی کی جانب سے کرائے جانے والے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق جائزے میں شامل 56 فیصد لوگوں نے کہا کہ فوجی کارروائی جاری رکھنا یرغمالوں کو آزاد کرانے کا بہترین طریقہ ہے۔جب کہ 24 فیصد سمجھتے ہیں کہ تبادلے کا ایک سمجھوتہ جس میں ہزاروں مزید فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی بھی شامل ہو، بہترین طریقہ ہو گا۔غزہ کے صحت سے متعلق عہدیداروں کے مطابق اس جنگ میں 22 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہیدہو چکے ہیں۔ اور زیادہ تر آبادی بے گھر ہو چکی ہے۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے کوئی آٹھ ہزار فلسطینی جنگجوؤں کو ماراہے اور اس نے حماس کے لیڈروں کو بھی تلاش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔لیکن جائزے کے مطابق صرف 15 فیصد لوگ چاہتے ہیں کہ نیتن یا ہو جنگ ختم ہونے کے بعد بھی وزیر اعظم رہیں۔



