بین الاقوامی خبریں

غزہ کی خواتین بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر، اسرائیلی محاصرے سے فاقہ کشی پر مجبور

اقوامِ متحدہ نے غزہ کے باشندوں کو درپیش حالات کو ناممکن صورتِ حال قرار دیا تھا

غزہ،4 جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) بین الاقوامی این جی او ایکشن ایڈ نے ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں مائیں اپنے بچوں کو دودھ پلانے سے قاصر ہیں کیونکہ اسرائیل کی جنگ میں علاقے کے رہائشیوں کو بہت کم یا نہ ہونے کے برابر خوراک میسر ہے جس کی وجہ سے وہ شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ایکشن ایڈ فلسطین میں ایڈوکیسی اور کمیونیکیشن کوآرڈینیٹر ریحام جعفری نے العربیہ کو بتایا، ”غزہ کے لوگوں کو جو ہولناکی برداشت کرنا پڑ رہی ہے، اس کی گہرائی بیان کرنے کے لیے ہمارے پاس الفاظ ختم ہو رہے ہیں۔ پوری آبادی بھوکوں مر رہی ہے لیکن حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور ان کے بچے سب سے زیادہ تکلیف میں ہیں۔ ہم جو کہانیاں سن رہے ہیں وہ دل دوز ہیں۔اسرائیل نے محصور انکلیو کی اشد ضروری انسانی امداد تک رسائی منقطع کر رکھی ہے اور غزہ کی پٹی کو ملبے کا ڈھیر بنائے جا رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ نے گذشتہ ہفتے غزہ کے باشندوں کو درپیش حالات کو ناممکن صورتِ حال قرار دیا تھا کیونکہ اسرائیلی حکومت سامان کی فراہمی میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کے امدادی سربراہ مارٹن گریفتھس نے کئی عوامل کو امداد کی فراہمی میں کمی کی وجہ قرار دیا جن میں اسرائیلی بمباری، امدادی قافلوں کا گولہ باری کی زد میں آ جانا، امدادی ٹرکوں کو فلسطینی سرزمین میں داخلے کی اجازت دینے سے قبل سخت معائنہ کی پرتیں، مسترد شدہ اشیاء کی بڑھتی ہوئی فہرست، اور خود امدادی کارکنان کا جنگ سے ہلاک اور بے گھر ہو جانا شامل ہیں۔دریں اثناء نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس گروپ نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل اس وقت فلسطینیوں کا صفایا کرنے کے لیے فاقہ کشی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ایکشن ایڈ کے مطابق غزہ میں اوسطاً فی شخص روزانہ 1.5 لیٹر پانی دستیاب ہے جس میں پینے سے لے کر نہانے اور صفائی تک انہیں تمام ضروریات پوری کرنا پڑتی ہیں۔

البتہ بنیادی بقا کے لیے ایک شخص کو روزانہ 15 لیٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔تنظیم نے مزید کہا کہ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو خود کو اور اپنے بچوں کو صحت مند رکھنے کے لیے روزانہ 7.5 لیٹر اضافی پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔یورو-میڈیٹیرینین ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق غزہ کی 71 فیصد آبادی اس وقت شدید بھوک کا شکار ہے جب کہ 98 فیصد لوگوں کے پاس وافر کھانا نہیں ہے۔ حاملہ خواتین، ماؤں اور ان کے چھوٹے بچوں پر اس کے اثرات شدید ہیں۔اقوامِ متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں 50,000 سے زیادہ حاملہ اور 68,000 دودھ پلانے والی خواتین ہیں جنہیں فوری طور پر جان بچانے والی، انسدادی یا علاج معالجے کی غذائی مداخلت کی ضرورت ہے۔مجموعی طور پر پانچ سال سے کم عمر کے 7,685 بچے زندگی کے لیے خطرناک تباہی کا شکار ہیں – جن کی وجہ سے وہ نشوونما میں تاخیر، بیماری اور سنگین صورتوں میں موت کا شکار ہو جاتے ہیں – جبکہ 4,000 سے زیادہ شدید تباہی کا شکار ہیں اور انہیں زندگی بچانے والے علاج کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button