راجیش کھنہ مستانی چال، جادوئی آنکھیں، دلکش آواز اور سر کو ایک خاص انداز میں جھٹکنے والے بالی وڈ کے ’بابو موشائے‘ کی ایک دنیا دیوانی تھی۔ان کی زبان سے ادا کیے گئے مکالمے ’زندگی بڑی ہونی چاہیے لمبی نہیں‘ یا پھر ’آئی ہیٹ ٹیئرز‘ ایک عرصے تک نوجوانوں کی زبانوں پر رہے جو اس وجیہہ اداکار کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب رہا کرتے تھے۔
راجیش کھنہ بالی وڈ کے وہ واحد اداکار ہیں جنہوں نے ہندی سنیما میں مسلسل 15 ہٹ فلمیں دے کر ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو اب تک نہیں ٹُوٹ سکا۔
آزادی سے قبل متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں 29 دسمبر 1942 کو پیدا ہونے والے جتن کھنہ (فلمی نام راجیش کھنہ) کے لیے بالی وڈ میں اپنی جگہ بنانا آسان نہیں تھا کیونکہ اس وقت تک ہندی سنیما دلیپ کمار، راج کپور اور دیو آنند کی اداکاری کے سحر سے نہیں نکلا تھا۔ایسے میں راجیش کھنہ کی فلمی زندگی کا آغاز 1966 میں آنے والی فلم ’آخری خط‘ سے ہوا اور پھر انہوں نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔
یہاں تک کہ 1972 تک انہوں نے ’آرادھنا‘، ’ڈولی‘، ‘دو راستے‘، ’آن مِلو سجنا‘، اور ’ہاتھی میرے ساتھی‘ جیسی ہِٹ فلمیں دے کر جہاں ایک طرف اپنی اداکاری کا لوہا منوایا وہیں وہ ہندی سنیما کے پہلے سُپرسٹار کہلائے۔
فلم ’آرادھنا‘ کی کامیابی کے بعد ہدایت کار شکتی سامنت کو یوں لگا جیسے انہیں کوہِ نور ہیرا مل گیا ہو جو ان کی فلموں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ’کٹی پتنگ‘، ’امر پریم‘، ’انوراگ‘، ’اجنبی‘، ’انورودھ‘ اور ’آواز‘ جیسی فلموں میں ان کے ساتھ کام کیا۔
کوئی بھی اداکار اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود تنقید اور نکتہ چینی سے بچ نہیں سکتا اور راجیش کھنہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے۔
ان پر یہ تنقید بھی کی جاتی رہی کہ وہ صرف رُومانوی کردار ہی ادا کر سکتے ہیں۔ ایسے میں راجیش کھنہ نے ہدایت کار رشی کیش مکھرجی کی فلم ’باورچی‘ اور اے بھیم سنگھ کی ’جورُو کا غلام‘ جیسی مزاحیہ فلم دے کر یہ ثابت کیا کہ وہ رومانی کرداروں کے علاوہ بھی اداکاری کرسکتے ہیں۔
فلمی نقاد یاسر عثمان کی کتاب ’راجیش کھنہ دی اَن ٹولڈ سٹوری آف انڈیاز فرسٹ سپر اسٹار‘ کے پیش لفظ میں سلیم خان 1970 کی دہائی میں راجیش کھنہ کی مقبولیت کے بارے میں لکھتے ہیں۔



