تلنگانہ کی خبریں

طلباء کے بیاگ کا وزن کم کرنے محکمہ تعلیم کی تجویز

حکومت کی جانب سے جلد فیصلہ کی توقع ، بیاگ کا وزن 25 فیصد کم ہوگا

حیدرآباد:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) محکمہ تعلیم نے طلبہ کے اسکول بیاگ کے وزن کو کم کرنے کے سلسلہ میں تجاویز اور سفارشات حکومت کو روانہ کی ہیں جس پر حکومت کی جانب سے جلد فیصلہ کئے جانے کی توقع ہے۔آئندہ تعلیمی سال سے طلبہ کو فراہم کئے جانے والی درسی کتب کی ساخت اور ان کے وزن کو کم کرنے کے اقدامات کے ساتھ اسکولی بیاگ کے وزن کو کم کرنے کے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔ عہدیداروں کے مطابق تعلیمی سال 2024-25 میں طلبہ کے بیاگ میں 25 فیصد وزن کم ہوجائے گا۔ محکمہ تعلیم نے حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی درسی کتب کے حجم میں کمی لاتے ہوئے 70جی ایس ایم کے پیپر کا استعمال کرتے ہوئے کتابوں کی اشاعت کا فیصلہ کیا ہے۔ یکم تا دہم جماعت کے طلبہ کے بستوں کے وزن میں زائد از ایک کیلو گرام کی کمی ریکارڈ کی جائے گی۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات پر عمل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں 4.5 کیلو کے بستے جو ابھی طلبہ اٹھا رہے ہیں ان کا وزن 3.5کیلو گرام ہوجائے گا۔ بتایاجاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کی جانے والی سفارشات کو سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ خانگی اسکولوں میں بھی نافذالعمل بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے اور حکومت کے فیصلہ کو قبول نہ کرتے ہوئے اس پر عمل آوری کو یقینی نہ بنانے والے اسکولوں کے خلاف کاروائی بھی کی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات کے بعد ہی محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے یہ سفارشات حکومت کوروانہ کی ہے جن میں درسی کتب کو 90 جی ایس ایم کے بجائے 70 جی ایس ایم کے کاغذپر شائع کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے کی گئی سفارش کے مطابق پہلی اور دوسری جماعت کے طلبہ کے بستوں کا وزن 1.5 کیلو سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے جبکہ تیسری تا پانچویں جماعت کے طلبہ کے بستوں کا وزن 3 کیلو گرام سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے ۔ چھٹویں تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کے بستوں کا وزن 4 کیلو تک ہوگا اورآٹھویں اور نویں جماعت کے طلبہ کے لئے 4.5 کیلو وزنی بیاگ کی اجازت حاصل رہے گی لیکن اس سے زیادہ وزنی بیاگ کی اجازت نہیں ہوگی۔دسویں جماعت کے طلبہ کے لئے بستہ کا وزن 5کیلو تک ہوسکتا ہے لیکن اس سے زیادہ وزن کا بستہ نہیں ہونا چاہئے ۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے حکومت کو تفویض کی گئی اس رپورٹ کو ریاستی حکومت کی جانب سے منظوری دیئے جانے کی صورت میں نئے سال کی درسی کتب کی اشاعت کم حجم والے کاغذ پرعمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button