پٹیالہ :ایمبولینس کے گڑھے سے ٹکرانے کے بعد مردہ زندہ ہوگیا
مردہ شخص کو لانے والی گاڑی ایمبولینس سڑک کے ایک گڑھے سے ٹکرا گئی
پٹیالہ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ سفر کے دوران سڑک پر موجود گڑھے ہمیشہ ہی انسانوں کو پریشان کرتے ہیں،جہاں سڑکوں پر گڑھوں کی وجہ سے حادثات اور اموات ہوتی ہیں وہیں ان گڑھوں کی وجہ سے ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جسے جان کر لوگ حیران رہ گئے ہیں۔اس بار سڑک پر موجود گڑھوں نے کسی کی جان نہیں لی لیکن ان گڑھوں کی وجہ سے کسی کی جان بچ گئی۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے مردہ قرار دیئے گئے 80 سالہ شخص کا دل سڑکوں پر موجود گڑھوں کی وجہ سے دوبارہ دھڑکنے لگا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 80 سالہ درشن سنگھ برار شخص کو ڈاکٹروں کی جانب سے مردہ قرار دیے جانے کے بعد اس کی نعش آخری رسومات کے لیے پٹیالہ سے کرنال کے قریب ان کے گھر لے جارہے تھے جہاں تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرلیا گیا تھا اور آخری رسومات کے تحت مردے کو جلانے کے لیے لکڑیاں بھی منگوالی گئی تھیں لیکن اسی دوران راستے میں مردہ شخص کو لانے والی گاڑی ایمبولینس سڑک کے ایک گڑھے سے ٹکرا گئی۔برار کے اہل خانہ نے بتایا کہ درشن سنگھ کے پوتے نے انہیں ہاتھ ہلاتے ہوئے دیکھا۔اس کے بعد ان کی نبض چیک کی گئی تو پتہ چلا کہ ان کا دل دھڑک رہا ہے۔اس کے بعد ایمبولینس کو قریبی اسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے درشن سنگھ کو زندہ قرار دیا۔
80 سالہ درشن سنگھ دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، اب وہ کرنال کے ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔اہل خانہ نے اس واقعہ کو معجزہ قرار دیا ہے اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے امیدیں باندھ لی ہیں۔درشن سنگھ کے پوتے بلوان نے بتایا کہان کے دادا 4 دن سے وینٹی لیٹر پر تھے جس کے بعد ڈاکٹروں نے جمعرات کی صبح انہیں وینٹی لیٹر سے ہٹا کر مردہ قرار دے دیا تھا۔
کرنال کے ایک اسپتال میں زیر علاج
اہل خانہ نے بتایا کہ اسپتال کے ڈاکٹروں نے تصدیق کی ہے کہ برار زندہ ہیں اور سانس لے رہے ہیں۔اس کے بعد برار کو کرنال کے این پی راول اسپتال لے جایا گیا، جہاں ان کا علاج چل رہا ہے۔اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جب برار کو اسپتال لایا گیا تو ان کے بلڈ پریشر کے ساتھ ساتھ ان کے دل کی دھڑکن بھی نارمل تھی۔



