بین الاقوامی خبریںسرورق

حماس -اسرائیل جنگ: حماس کے ہاتھوں 24 صہیونی فوج ہلاک، یاہو جنگ بندی کی شرائط پر مصر

قاتلانہ حملے کے جواب میں حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی اڈے پر بمباری

مقبوضہ بیت المقدس ، 24جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی فوج نے منگل کو کہا کہ غزہ میں اس کے 24 فوجی ایک ہی دن میں ہلاک ہو گئے ،جو غزہ میں اکتوبر میں جنگ چھڑنے کے بعد سے اسرائیلی فوجیوں کی سب سے زیادہ ہلاکتوں کا دن تھا۔ان اموات کا اعلان اسرائیل نے ایسے میں کیا ہے جب اس کی فورسز نے جنوبی غزہ کے مرکزی شہر خان یونس سے انخلا کی کوشش کرنے والے فلسطینیوں کو گھیرے میں لیتے ہوئے ایک بڑا زمینی حملہ کیا۔فلسطینی صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 195 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور مرنے والوں کی کل تعداد 25 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ایک اسرائیلی فوجی ترجمان نے بتایاکہ اسرائیلی فوجی پیر کے روز اس وقت ہلاک ہوئے جب ان دو عمارتوں میں دھماکے ہوئے جہاں فوجیوں نے بارودی سرنگیں نصب کی تھیں۔

یہ دھماکے حماس کے عسکریت پسندوں کی جانب سے عمارتوں کے قریب ایک ٹینک پر فائرنگ کے بعد ہوئے۔دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے ‘رائٹرز’ کو بتایا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب غزہ کے قریب ایک قصبے خان یونس میں اسرائیلی افواج نے فضا، زمین اور سمندر سے بمباری کی جس میں ایک اسپتال کو نشانہ بنایا گیا اور طبی عملے کو گرفتار کیا گیا۔غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل فورسز نے کچھ اسپتالوں کی ناکہ بندی اور ان پر دھاوا بولا جس کے نتیجے میں ریسکیو عملہ زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں تک نہیں پہنچ پا رہا۔اسرائیل کی جانب سے اسپتال کی صورتِ حال پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ میں حماس کے باقی ماندہ مضبوط مراکز پر حملہ کر رہا ہے اور سرحد کے قریبی علاقوں کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان ایلان لیوی نے منگل کو ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ بندی کے کسی ایسے معاہدے پر رضامند نہیں ہو گا جس کے تحت غزہ میں اس کے یرغمال قید میں رہیں یا عسکریت پسند گروپ حماس، محصور شہر میں مسلسل اقتدار میں رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یرغمالوں کی رہائی کے بارے میں کوششیں جاری ہیں لیکن انہوں نے یہ کہتے ہوئے وضاحت کرنے سے انکار کیا کہ صورت حال ابھی واضح نہیں ہے،جب ان سے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی رپورٹس کے بارے میں پوچھا گیا تو لیوی نے کہا کہ جنگ کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسی کوئی جنگ بندی نہیں ہو گی جس میں غزہ میں یرغما ل مسلسل قید میں اور حماس حکومت میں رہے۔

اس کے علاوہ ہمارے پاس وضاحت کے لیے کچھ نہیں ہے۔اس سے قبل جنوبی غزہ میں ایک الگ حملے میں اطلاعات کے مطابق تین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والے ایک فوجی کی آخری رسومات میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی غزہ میں لڑائی اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک وہ مکمل فتح نہیں حاصل کر لیتا۔نیتن یاہو نے ایک پیغام میں کہا کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے 22 جنوری اسرائیلی فورسز کے لیے سب سے مشکل دنوں میں سے ایک تھا۔یروشلم میں کچھ اسرائیلیوں نے فوجی ہلاکتوں کو ایک ضروری قربانی کے طور پر بیان کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی خوفناک واقعہ تھا، لیکن ہمیں اس لیے برداشت کرنا پڑا تاکہ 7 اکتوبر کا واقعہ دوبارہ نہ ہو۔اگرچہ اسرائیل میں جنگ کو ابھی تک بھر پور عوامی حمایت حاصل ہے تاہم نیتن یاہو کی حکمت عملی پر بے اطمینانی پیدا ہو رہی ہے، یعنی حماس کی مکمل تباہی، لیکن اس بارے میں صرف مبہم گفتگو کہ ایسا کیسے ہو گا اور اس کے بعد کیا ہوگا.


قاتلانہ حملے کے جواب میں حزب اللہ کی اسرائیلی فوجی اڈے پر بمباری

بیروت، 24جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اطلاع کے مطابق منگل کو اسرائیلی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر اور لبنان کی سرحد کے قریب اسرائیلی قصبوں پر 15 میزائل داغے گئے۔اسرائیلی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لبنان کی سرحد کے قریب متعدد قصبوں میں ایک گھنٹے کے اندر تیسری بار سائرن بجے۔لبنانی حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں میرون ایئر کنٹرول اڈے کو نشانہ بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حالیہ دنوں میں تنظیم کے ذمہ داروں کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیا گیا۔یہ دوسرا موقع ہے کہ جب حزب اللہ نے میرون اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔اس اڈے میں اسرائیلی فوجی تنصیبات شامل ہیں جن سے اسرائیلی فضائیہ کی زیر انتظام نگرانی کی جاتی ہے۔

6 جنوری کو بیروت میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کی ہلاکت کے جواب میں درجنوں میزائلوں سے بمباری کی گئی تھی۔قابل ذکرہے کہ اسرائیل پر حال ہی میں مزاحمت کے محور کے رہ نماؤں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس میں لبنانی حزب اللہ کے علاوہ حماس عراقی اور یمنی دھڑے بھی شامل ہیں۔گذشتہ ہفتوں کے دوران العاروری کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے اور حزب اللہ کے گڑھ ایرانی پاسداران انقلاب کے رہ نما راضی موسوی کو دمشق کے قریب مارا دیا گیا۔ حزب اللہ کے عسکری رہ نما وسام الطویل کو جنوبی لبنان میں مارا گیا۔20 جنوری کو شام کے دارالحکومت میں اسرائیلی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کے پانچ مشیروں سمیت 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ایران نے اس حملے کا جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر روزانہ بمباری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ کی حمایت اور اس کی مزاحمت کی حمایت میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور مراکز کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج فضائی اور توپخانے کی بمباری سے جواب دیتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ سرحد کے قریب حزب اللہ کے انفراسٹرکچر اور لڑاکا نقل و حرکت کو نشانہ بنایا گیا ہے۔’اے ایف پی‘ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق کشیدگی کے آغاز کے بعد سے لبنان میں 202 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں حزب اللہ کے 147 جنگجو اور 26 عام شہری شامل ہیں۔


اسرائیل کی غزہ کے باسیوں کو بحیرہ روم کے کسی جزیرہ میں آباد کرنے کی تجویز

مقبوضہ بیت المقدس، 24جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک ایسے وقت میں جب غزہ جنگ کے بعد یورپی ممالک سمیت عالمی برادری فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دے رہی ہے اسرائیل نے ایک حیران کن اور ناقابل یقین تجویز دی ہے۔اسرائیل کا کہنا ہے کہ غزہ کے باشندوں کو بحیرہ روم کے کسی جزیرے پر منتقل کیا جائے۔یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف یورپی یونین نے باور کرایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیر پرامن کے حصول کا واحد راستہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے۔یورپی یونین پہلے ہی اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہوکی طرف سے فلسطینی ریاست کے قیام کے خیال کو واضح طور پر مسترد کرنے پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔ معلومات کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ یسرائیل کاٹز نے ایک سیشن میں متعدد وزراء کی طرف سے بیان کردہ یورپی نقطہ نظر کو نظر انداز کر دیا۔

اسرائیل نے بحیرہ روم میں ایک جزیرہ بنانے کی اپنی تجویز پیش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ جس میں غزہ کی پٹی کے رہائشیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اسرائیل کے اس موقف بڑے پیمانے پر حیرت اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔ بلجیم اور پرتگال سمیت کئی ممالک کی جانب سیاس پر کھل کر تنقید کی گئی۔دوسری جانب فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے تل ابیب کی تجویز کا جواب دیتے کہا کہ فلسطینی اپنا ملک نہیں چھوڑیں گے۔ فلسطینیوں کو جزیرے پر منتقل کرنے کی تجویز دینے والا خود جزیرے میں آباد ہوگا۔ایک یورپی سفارت کار نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے بارے میں اسرائیلی حکام کے ساتھ بات چیت بہروں کے ساتھ گفتگو کی طرح ہے۔

یورپی یونین نے اسرائیل، عرب فالو اپ کمیٹی کے ممالک اور فلسطینی اتھارٹی کو غزہ جنگ روکنے سے لے کر فلسطینی ریاست کے قیام اور علاقائی امن کے لیے روڈ میپ تجویز دیا ہے۔غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے فائل میں ایک جامع امن منصوبہ شروع کرنا شامل ہے، جس کا تعلق فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے سلامتی کے مسئلے کو حل کرنا اور پھر عرب ممالک کی نگرانی میں غزہ کی پٹی میں تعمیر نو کا عمل شروع کرنا ہے۔ فلسطینیوں کو دو ریاستی حل کے لیے اسرائیل کے عزم کے بدلے میں حماس کا سیاسی متبادل بھی تیار کرنا چاہیے۔یورپی دستاویز میں امن کانفرنس کی تیاری کا مطالبہ شامل ہے، جس کے نتائج امن منصوبے کا مسودہ تیار کرنا اور بین الاقوامی فریقین کو اس میں حصہ ڈالنے کی دعوت دینا ہے۔یورپی دستاویز اسرائیل اور مستقبل کی فلسطینی ریاست کو مضبوط سکیورٹی کی ضمانتیں دینے کی ضرورت پر زور دیتی ہے جس میں دونوں فریقوں کے درمیان باہمی رابطہ بھی شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button