گیانواپی کیس: سروے رپورٹ فریقین کو سونپے جائیں، عدالت کا بڑا فیصلہ
جج نے کہا کہ تمام فریقین عدالت میں بندھ جمع کر کے سروے رپورٹ حاصل کریں کہ وہ رپورٹ کو اپنے پاس رکھیں گے اور اسے پبلک نہیں کریں گے۔
وارانسی، 24جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ نے بدھ کو گیانواپی مسجد کمپلیکس کی سروے رپورٹ تمام فریقین کو سونپنے کا حکم دیا۔ ہندو فریق کے وکیل مدن موہن یادو نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویش نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ گیانواپی کمپلیکس کی سروے رپورٹ تمام فریقوں کو سونپی جائے۔ اس دوران مسلم فریق نے ڈسٹرکٹ جج کے سامنے مطالبہ کیا کہ سروے کی رپورٹ صرف فریقین کے پاس رہے اور اسے عام نہ کیا جائے۔اس پر ڈسٹرکٹ جج نے کہا کہ تمام فریقین عدالت میں بندھ جمع کر کے سروے رپورٹ حاصل کریں کہ وہ رپورٹ کو اپنے پاس رکھیں گے اور اسے پبلک نہیں کریں گے۔
یادو نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے گیانواپی کمپلیکس کی سروے رپورٹ آج سول جج سینئر ڈویژن پرشانت سنگھ کی عدالت میں داخل کی، جس کے بعد ضلع جج نے گیانواپی کمپلیکس کی سروے رپورٹ سونپ دی۔گزشتہ سال ضلعی عدالت کے 21 جولائی کے حکم کے بعد، اے ایس آئی نے کاشی وشواناتھ مندر کے ساتھ واقع گیانواپی کمپلیکس کا سائنسی سروے کیا تھا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ مسجد کسی ہندو مندر کے پہلے سے موجود ڈھانچے پر بنائی گئی تھی یا نہیں۔



