سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

پتنگٓ بازی-

ڈاکٹر ابو زاہد شاہ سید وحید اللہ حسینی القادری الملتانی کامل الحدیث جامعہ نظامیہ

پتنگ کی ایجاد حضرت سیدنا عیسیؑ کی پیدائش سے تقریباً 200 سال پہلے ملک چین میں ہوئی پھر کوریا اور جاپان سے ہوتے ہوئے دنیا کے دیگر ممالک میں پتنگ بازی کا چلن عام ہوگیا جو اس وقت لوگوں کی تفریح طبع کا سامان تھا۔ اگر کوئی شخص اسی مقصد کے تحت پتنگ بازی کرتا ہے تو کسی حد تک اس کو مباح قرار دیا جاسکتا ہے لیکن مکر سنکرانتی تہوار کو جو غیر مسلم حضرات پتنگ بازی کا خاص اہتمام کرتے ہیں وہ صرف خوشدلی یا تفریح طبع کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اس کو خاص مذہبی اہمیت حاصل ہے اور ان کے عقیدہ کے مطابق اس دن سورج دیوتا بہت مہربان ہوتے ہیں اسی لیے وہ لوگ رنگ برنگی پتنگیں پلاکر سورج دیوتا کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ایسے کھیل میں مسلمانوں کے شریک ہونے کو کسی بھی طرح سے جائز نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ معروف سیاح، موازنہ ادیان کے بانی ابو ریحان البیرونی نے اپنی مشہور زمانہ سفر نامے ’’کتاب الھند‘‘ میں لکھا ہے کہ پتنگ بازی غیر مسلموں کا مذہبی تہوار ہے جو وہ اپنے دیوئیوں کو خوش کرنے کے لیے مناتے ہیں اور برہمنوں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ایسے ہندوانہ تہواروں اور کھیلوں میں شامل ہونا مومنانہ شان و وقار کے لائق نہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن مجید اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ مسلمانوں پتنگ بازی میں مصروف ہوجائیں۔

حضرت جسٹس پیر کرم شاہ ازھریؒ سورۃ النحل کی آیت نمبر 79 کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ’’جن ایمان والوں کے لیے پرندوں کی ہیئتِ ترکیبی میں آیات و علامات تھیں وہ تو پتنگ اڑاکر ہی خوش ہرتے رہے اور دوسری قوموں نے اس رہنمائی سے فائدہ اٹھاکر طیارے اور معلوم نہیں کیا کیا بناکر فضا کو مسخر کیا اور وہاں اپنے جھنڈے گاڑ دیے۔‘‘ دوسری وجہ: اگر مسلمان اس کھیل میں شرکت کرتا ہے تو ان کا یہ عمل برائیوں پر ایکدوسرے کی مدد و معاونت کرنے کے زمرے میں آئے گا جس سے قرآن مجید نے مسلمانوں کو صراحتاً منع فرمایا ہے۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے دو ممتاز تلامذہ یعنی حضرت امام قاضی ابو یوسفؒ اور حضرت امام ابو عبداللہ محمد الشیبانیؒ (جو فقہ کی دنیا میں صاحبین کہلاتے ہیں )کی آراء کے مطابق گوکہ پتنگ اور پھرکی کی تجارت کرنا جائز ہے لیکن احتیاط کا تقاضہ یہی ہیکہ ایسی تجارت سے پرہیز کیا جائے۔

مختلف آیات قرآنیہ اور احادیث مبارکہ کا بنظر غائر مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ فی زمانہ ہونے والے پتنگ بازی کے کھیل میں شامل ہونا دین اسلام میں ممنوع ہے جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام ایک عالمگیر اور آفاقی مذہب ہے جس میں انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں پیش آنے والے طبعی و فطری مسائل کا حل موجود ہے۔ کھیل کود انسانی فطرت کا ایک اہم حصہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب نومولود تھوڑا بڑا ہوتا ہے تو سب سے پہلے کھلونوں کی طرف مائل ہوتا ہے ۔

ہمیں یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ جو شخص دوسرے کے مال کو لوٹتا ہے تو اس وقت اس کے اندر سے ایمان نکال لیا جاتا ہے۔ لہٰذا والدین اور بزرگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو پتنگ لوٹنے کے غیر شرعی عمل سے بچانے کی کوشش کریں ورنہ یہ بچے کل مسلم معاشرے کے لیے ناسور بھی بن سکتے ہیں۔ پتنگ بازی کے دوران ہر کوئی چاہتا ہے کہ دوسرے کی پتنگ کاٹ کر اس کو نقصان پہنچایا جائے جس کی وجہ سے بسا اوقات لوگوں میں نفرتوں کی دیوار کھڑی ہوجاتی ہے جبکہ دین اسلام انسانی معاشرے میں نرمی و رافت، محبت و شفقت، اخوت و بھائی چارگی کے حسین جذبات کو پروان چڑھانا چاہتا ہے جو انسان کی دنیا و آخرت کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

کسی بھی انسان کے کردار میں ان حسین جذبات کو پیدا ہونا اسی وقت ممکن ہے جب انسان فرحت و مسرت کے لمحات لوگوں کو فراہم کرکے ان کے درد و غم اور رنج و الم میں کمی کرنے کی کوشش کرے نہ کہ انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ دین اسلام میں انسان کو اس بات کی بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچائے تو مسلمان کے لیے کیسے ممکن ہے کہ وہ کھیل کود کے نام پر دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے۔ کسی بھی انسان کو تکلیف نہ دینا ہر مسلمان پر واجب ہے یہاں تک کہا گیا کہ عبادت پر ترک اذیت مقدم ہے۔ مثلاً پہلی صف میں شامل ہوکر نماز پڑھنے کی بڑی فضیلت ہے لیکن پہلی صف میں شامل ہونے کے لیے لوگوں کی گردنوں کو پھلانگنتے ہوئے انسان کو تکلیف و اذیت پہنچانا سخت بداخلاقی اور ناجائز کام ہے بلکہ ایسا شخص جہنم کی طرف پل بنایا جائے گا یعنی جس طرح اس نے لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر اپنی گذرگاہ بنایا اسی طرح اس کو جہنم کی طرف پل بناکر لوگوں کے لیے گذر گاہ بنایا جائے گا۔ْ

اس تناظر میں دیکھا جائے تو مومن وہ نہیں جو دوسروں کو جسمانی یا روحانی نقصان پہنچائے بلکہ حقیقی مومن کی نشانی یہ بتائی گئی کہ اس کی ہستی سب انسانوں کے لیے نافع و مفید ہو۔ پتنگ بازی کے دوران اکثر یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ ٹیپ ریکارڈ اور بڑے لائوڈ اسپیکر لگاکر لوگوں کو گالی دیتے ہیں اور خلاف فحش گوئی، بدزبانی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہیں جو دراصل فساد کی جڑ اور بدترین گناہ ہے اسی لیے اس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔مسلمانوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ لوگوں کو زبان کے ناجائز استعمال سے باز آنے کی تلقین کرتے لیکن افسوس صد افسوس کہ بعض مسلم نوجوان پتنگ بازی کے دوران خود اس عادت بد کا شکار ہوجاتے ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات میں یہ بات وضاحت و صراحت کے ساتھ بتادی گئی کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ ہوں اور گالی گلوج کرنا تو منافق کی نشان ہے جس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (العیاذ باللہ)

قرآن مجید کے اسلوب بیان سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ہم ابلیس کو بھی گالی نہیں دے سکتے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم انسان کو گالی دیں جسے رب کائنات نے اپنا خلیفہ بناکر اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اکثر مشاہدہ میں آتا ہے کہ پتنگ بازی کے دوران بچوں کو نماز کے اوقات کا بھی خیال نہیں رہتا بعض لوگ پتنگ بازی میں مصروفیت کے باعث جان بوجھ کو نماز ترک کرنے کے مرتکب بن جاتے ہیں جبکہ قصداً اور عمداً نماز ترک کرنا بڑا گناہ اور کفر والا عمل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ دین اسلام نے حالت خوف یعنی جنگ کی حالت میں بھی نماز کی ادائیگی کا حکم فرمایا ہے۔روایت میں آتا ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ تجارت کے سلسلے میں دوسرے ملکوں کا سفر کیا کرتا تھا اس نے عجمی لوگوں کی واہمات و خرافات سے بھرپور قصے ،کہانیوں اور داستانوں پر مشتمل کتابیں خریدی ہوئی تھیں اور وہ کہانیاں قریش کو سناکر کہا کرتا تھا کہ محمد(ﷺ) تمہیں عاد و ثمود کے واقعات سناتے ہیں اور میں تمہیں رستم، اسفندیار اور ایران کے شہنشائوں کی کہانیاں سناتا ہوں جو درحقیقت مسلمان کو صراط مستقیم سے انحراف کرنے والی تھیں۔ کچھ لوگ قرآن پاک سے غافل ہوکر ان کہانیوں میں مشغول ہوگئے جو ایسا عظیم ترین جرم تھا جو انسان کو دردناک عذاب کا حقدار بنادیتا ہے۔

مسلمانوں کو حکمت سے بھرپور کتاب پر لغویات کو ترجیح دینے کی نحوست اور دنیا و آخرت کی بدبختی مول لینے سے بچانے کے لیے اللہ تعالی نے سورۃ لقمان کی آیت نمبر 6 نازل فرمائی جس میں ’’لھو الحدیث‘‘ کا لفظ آیا ہے جس کے معنی وہ تمام اشیائ، امور اور سرگرمیاں جو انسان کو بے ہودگی یا برائی کی طرف کھینچے ،نیکی سے غفلت میں ڈالے اور اس کے اعتقادات و اخلاقیات کو کمزور کردے۔ اس آیت پاک کی رو سے مسلمانوں کو ہر اس کھیل سے بچنا چاہیے جو انہیں دردناک عذاب کی طرف لیجاتا ہے۔ مذکورہ بالا تمام حقائق کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ فی زمانہ ہونے والی پتنگ بازی بھی ’لھو الحدیث‘ کے زمرے میں آتی ہے۔آخر میں اللہ تعالی سے دعا ہے کہ بطفیل نعلین پاک مصطفیﷺ ہمیں قرآن اور صاحب قرآن ﷺ کی تعلیمات کے مزاج کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق رفیق عطا فرمائیں۔آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین طہ و یسین۔

توبہ- ثناء سفیان خان

ہم چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، کھاتے اور پیتے نجانے کتنی ہی باتیں کرتے ہیں،اپنی اپنی زندگیوں میں کیا کچھ نہیں بول جاتے جن کا شاید ہمیں احساس تک نہیں ہوتا اور ان باتوں کے درمیان ہم کچھ ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں جو گناہ کے زمرے میں آتی ہیں۔ہم اشرف المخلوقات ہیں اور اکثر اوقات انسان سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔

ہم کبھی ان غلطیوں کو فوراً محسوس کر جاتے ہیں اور کبھی کبھار تھوڑا سا رک کر۔۔۔لیکن احساس ہو جاتا ہے۔اس کے بعد ہم کیا کرتے ہیں۔۔؟

ان غلطیوں کے محسوس ہونے کے باوجود ہم آگے بڑھ جاتے ہیں ایسے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں جیسے ہم نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں۔۔۔لیکن وہ گناہ اور غلطیاں ہمارے نامہ اعمال میں لکھی جا چکی ہوتی ہیں۔ہم یہاں پر اِن گناہوں اور غلطیوں کو یکسر بھول جاتے ہیں اور صد افسوس کہ نامہ اعمال میں لکھے جا چکے اِن گناہوں کے حوالے سے ذرا غور و فکر نہیں کرتے۔۔۔ذرا بھی نہیں سوچتے۔۔۔!!!

حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ،حضورِ اقدس حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا:”اگر تم اتنی غلطیاں کرو کہ تمھاری غلطیاں آسمان تک پہنچ جائیں ، پھر تو بہ کرو تو ( پھر بھی) اللہ تمھاری توبہ قبول کرے گا۔“(سنن ابن ماجہ : 4248،)

اگر جو ہم گناہ کریں اور گناہ کا احساس ہوجانے کے فوراً بعد سچے دل سے معافی مانگ لیں،مزید یہ کہ اِس گناہ کو دوبارہ کبھی نہ کرنے کی توبہ کر لیں تو اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے گناہ نامہ اعمال سے مٹا دیے جاتے ہیں۔۔۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ،”اور جو شخص توبہ کرے اور نیک عمل کرے وه تو (حقیقتاً) اللہ تعالیٰ کی طرف سچا رجوع کرتا ہے۔۔!“( سورۃ فرقان آیت نمبر ٧١:)

بےشک ہماری تمام تر تکلیفوں، مشکلوں، پریشانیوں اور گناہوں کا راہِ حل اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں بڑے ہی واضح طور پر بتا دیا ہے۔۔۔قران مجید اللہ پاک کی عظیم و بابرکت کتاب ہے اور اللہ نے اُس میں ہمیں ایک ایک چیز کا حل بتا دیا ہے۔بس ہمیں اس کو مضبوطی اور نیک نیتی سے تھامے رکھنا ہے۔

قرآن مجید کے لفظ لفظ کو اپنی زندگی میں نہ صرف اچھے سے شامل کرنا ہے بلکہ پوری دلجمعی سے اس پر عمل بھی کرنا ہے۔پھر اللہ پاک کے فضل و کرم سے ہماری ساری مشکلیں ہر تکلیف سب دور ہو جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button