غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی کیلئے عطیہ دہندگان امداد جاری رکھیں: انتونیو گوتریس
کرم شالوم راہداری کی اسرائیلی بندش، غزہ میں اشیاء خور ونوش کی ترسیل رک گئی
نیویارک، 29جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بار پھر کارکن ممالک پر بالعموم اور ڈونر ملکوں پر بالخصوص زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں جاری امدادی کارروائیوں کے لیے اپنی امداد اور فنڈز کا سلسلہ جاری رکھیں۔ انہوں نے یہ اپیل اتوار کے روز اس یقین دہانی کے ساتھ کی ہے کہ اونروا کے اہلکاروں پر لگائے گئے الزام کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں گی۔ تاکہ معلوم ہوسکے کہ الزام کس قدر حقیقت پر مبنی ہے اور اس کی روشنی میں کاروائی کی جاسکے۔
اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل انتونیو نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ‘اگر کوئی اقوام متحدہ کا کارکن اس میں ملوث ہوا تو اس کا مکمل احتساب کیا جائے گا۔ حتی کہ ضرورت کے مطابق فوجداری مقدمات سے بھی گزارا جائے گا۔ اقوام متحدہ کا سیکٹریٹ ان تحقیقات کے سلسلے میں متعلقہ حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرے گا۔اسی موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ دسیوں ہزار لوگ اونروا میں کام کرتے ہیں۔ جن میں سے ایک بڑی تعداد انسانی حقوق کے لیے کام کرتے ہوئے سخت مشکلات سے دوچار ہے اس کے لیے چند افراد پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے پورے اونروا اور اس کے تمام کارکنوں کو سزا نہیں دے سکتے۔
جو بھوکے اور برے حال کو پہنچے ہوئے لوگوں کی مدد کر رہے ہین اور ان لوگوں کی بنیادی ضرورت کی چیزیں انہیں ضرور ملنی چاہئے۔یو این چیف نے پہلی باراس معاملے میں اپنے تفصیلی تبصرے میں کہا ہے کہ، اونروا کے بارہ کارکنوں پر الزام لگایا گیا ہے جن میں سے نو کی ملازمت کی ختم کردی گئی ہے جبکہ ایک ہلاک ہوچکا ہے اور باقی دو کی تلاش اور شناخت کا عمل جاری ہے۔امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے برطانیہ، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ، سوئٹزرلینڈ، فن لینڈ اور آسٹریلیا اور کینیڈا نے بھی اونروا کو دیے جانے والے فنڈز کو روک دیا ہے۔
اسرائیل کی طرف سے اونروا پر لگائے گئے اس الزام کے بعد غزہ میں امدادی کاروائیوں پر منفی اثر پڑسکتا ہے۔سیکٹری جنرل نے کہا کہ میں ان ممالک کی اس تشویش کو سمجھ سکتا ہوں ان الزامات سے میں خود بھی خوفزدہ ہوا۔ میں ان ممالک سے جنہوں نے اونروا کیے لیے فنڈز کو روکا ہے سے اپیل کرتا ہوں اور اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ ‘اونروا’ کی امدادی خدمات جاری رہیں گی۔
کرم شالوم راہداری کی اسرائیلی بندش، غزہ میں اشیاء خور ونوش کی ترسیل رک گئی
غزہ، 29جنوری:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیلی راہداری کرم شالوم جو غزہ میں امدادی سامان کی فراہمی کے لیے حال ہی میں کھولی گئی تھی۔ اسرائیلی مظاہرین نے اتوار کے روز احتجاج کر کے بند کرا دی ہے، یہ اسرائیلی مظاہرین کرم شالوم پر اسی لیے جمع ہوئے تھے۔ ان کا اسرائیلی حکومت سے مطالبہ تھا کہ راہداری بند کی جائے کیونکہ وہ نہیں چاہتے غزہ میں کھانے پینے کی اشیاء جائیں۔یوں اسرائیلی احتجاجی مظاہرین غزہ کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے ٹرکوں کو رکوانے میں کامیاب ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کے روز سینکڑوں اسرائیلی مظاہرین اس راہداری کے سامنے جمع ہوئے تھے۔ یہ اس کے باوجود جمع ہوئے تھے کہ اسرائیلی فوج نے اس علاقے کو بند فوجی زون قرار دیا تھا۔
ان اسرائیلی مظاہرین کے حوالے سے بتایا گیا کہ بعض کا تعلق اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں سے تھا۔ جو کرم شالوم پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ غزہ میں کچھ بھی امدادی سامان نہ جا سکے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ انسانی تباہی کے کنارے پر ہے۔مظاہرین میں شامل ایک شوشی سٹریکووسکی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا ‘ہم نہیں چاہتے کہ غزہ میں کچھ بھی بھیجا جائے، کیونکہ وہاں جو کچھ بھی جاتا ہے وہ دہشت گردوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔واضح رہے بین الاقوامی عدالت انصاف نے اسرائیل کو حکم دیا ہے کہ غزہ میں فوری ضرورت کی اشیاء کی انسانی بنیادوں پر غزہ میں فراہمی کے لیے اقدامات کرے۔ جہاں سات اکتوبر سے اسرائیل فوج مسلسل بمباری کر رہی ہے۔
غزہ میں امدادی اشیاء کی فراہمی کے لیے رفح راہداری کے علاوہ کچھ ہفتوں سے کرم شالوم راہداری سے ہو رہی تھی اتوار کے روز سے کرم شالوم راہداری کو اسرائیل نے بند کر دیا ہے۔اب غزہ کے 24 لاکھ فلسطینیوں کو اسی ایک راہداری سے امدادی سامنا کی فراہمی ممکن رہ گئی ہے۔ مصری صدر السیسی نے چند روز قبل بتایا تھا کہ اسرائیل نے رفح کے راستے امدادی سامان کی ترسیل میں کمی کر دی ہے اور اب یومیہ چھ سو امدادی ٹرکوں کے بجائے صرف 200 ٹرک جانے دیے جا رہے ہیں۔
امداد رکنے پر بیس لاکھ سے زائد فلسطینی متأثر ہوں گے
نیویارک، 29جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونرا کی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ اس الزام کے بعد کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کچھ اہلکار حماس جنگجوؤں کی طرف سے سات اکتوبر کو اسرائیلی سرزمین پر کیے گئے حملے میں ملوث تھے۔فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کی فنڈنگ روکنے کا فیصلہ اس الزام کے بعد کیا گیا ہے کہ اس ادارے کے کچھ اہلکار اسرائیل پر حماس کے حملے میں ملوث تھے۔جرمنی بھی ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے، جنہوں نے فلسطینی عوام کے لیے فعال اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی اونراکی فنڈنگ روک دی ہے۔
قبل ازیں امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک نے اونراکی مالی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان ممالک نے یہ فیصلہ اسرائیل کے اس الزام کی روشنی میں کیا ہے کہ اونراکے بارہ اہلکار گزشتہ برس سات اکتوبر کو عسکریت پسند تنطیم حماس کی جانب سے اسرائیلی سرزمین پر کیے گئے ایک دہشت گردانہ حملے میں ملوث تھے۔ان الزامات کے بعد سب سے پہلے امریکہ نے جمعے کے دن اس امدادی ادارے کی فنڈنگ روکنے کا اعلان کیا، جس کے بعد اقوام متحدہ کی اس ایجنسی کے دیگر ڈونر ممالک اٹلی، برطانیہ، فن لینڈ، نیدرلینڈز، کینیڈا، آسٹریلیا اور اب جرمنی نے بھی یہی اقدام اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن اور امریکی وزارت خارجہ نے علیحدہ بیانات میں اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیق ہونے تک اس ادارے کی فنڈنگ روکی جارہی ہے۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر کے اس حملے میں تقریبا 1,140 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 250 کو حماس نے یرغمال بنا لیا تھا، جن میں سے تقریبا 132 اب بھی اس کی قید میں ہیں۔ دوسری طرف غزہ پٹی میں وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس حملے کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری کارروائیوں میں کم از کم 26,257 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارے نے اسرائیل کی طرف سے الزامات عائد کیے جانے کے بعد متعدد ملازمین کو برطرف کر دیا ہے اور اس الزام کی تفتیش و تحقیق کی حامی بھری ہے۔
اسرائیلی وزیر خارجہ اسرائیل کاٹس نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارے اونرا کے کمشنر جنرل فلیپ لازارینی فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ انہوں ںے یہ مطالبہ ہفتے کو اس وقت کیا جب لازارینی نے کہا کہ اونرا کی فنڈنگ روکنے کے بعد فلسطین میں اس ادارے کی امدادی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔لازارینی نے درخواست کی کہ ڈونر ممالک فنڈنگ نہ روکیں کیونکہ غزہ پٹی کے بیس لاکھ سے زائد بے گھر افراد اس ایجنسی کی امداد پر انحصار کر رہے ہیں۔ غزہ پٹی میں حماس جنگجوؤں کے خلاف اسرائیلی دفاعی افواج کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کو یہی ادارہ سب سے زیادہ مدد فراہم کر رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے بھی اس ایجنسی کے عطیہ دہندگان ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی مہاجرین کے لیے کام کرنے والے اس ادارے کی مالی امداد جاری رکھیں۔گوٹیرش نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ وہ اسرائیل کے خدشات کو سمجھتے ہیں اور خود بھی ان الزامات سے خوفزدہ ہیں لیکن وہ ان حکومتوں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ امدادی رقوم منجمد نہ کریں۔گوٹیرش نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث سبھی افراد کا احتساب کیا جائے گا، جن میں فوجداری مقدمات کی کارروائیں بھی شامل ہوں گی۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اونراکے لیے کام کرنے والے ہزاروں مرد و خواتین انتہائی خطرناک حالات میں کام کر رہے ہیں اور انہیں کسی اور کے جرم کی سزا نہیں دی جانا چاہیے۔اقوام متحدہ کی یہ امدادی ایجنسی سن 1949 میں بنائی گئی تھی۔ غزہ پٹی میں امدادی سرگرمیاں سر انجام دینے والا یہ اقوام متحدہ کا سے بڑا ادارہ ہے۔ یہ ادارہ غزہ، مغربی کنارے، اردن، لبنان اور شام میں فلسطینیوں کو صحت، تعلیم اور انسانی بنیادوں پر دیگر امداد فراہم کرتا ہے۔ غزہ پٹی میں اس ادارے سے منسلک ملازمین کی تعداد تقریباً 13 ہزار ہے۔



