بنگال:آخر ہائی کورٹ نے دیا حکم ،اکبر اور سیتا کا نام بدلا جایا
عدالت نے شیرنی کا نام سیتا اور شیر کا نام اکبر رکھنے پر بنگال حکومت سے جواب طلب کیا
کولکاتہ ،22فروری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں اکبر نامی شیر کو سیتا نامی شیرنی کے ساتھ رکھنے پر تنازعہ ہو گیا ہے۔ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ وشو ہندو پریشد کی بنگال یونٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی اور اسے ہندو مذہب کی توہین قرار دیا۔ عدالت نے 16 فروری کو دائر درخواست پر 20 فروری کو سماعت کی۔ عدالت نے شیروں کے جوڑے کا نام تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔ ساتھ ہی عدالت نے شیرنی کا نام سیتا اور شیر کا نام اکبر رکھنے پر بنگال حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔معاملہ سلی گوڑی کے سفاری پارک کا ہے۔ وی ایچ پی نے الزام لگایا تھا کہ وشو ہندو پریشد کو اس حقیقت سے بہت تکلیف ہوئی ہے کہ بلی کی نسل کا نام بھگوان رام کی بیوی سیتا کے نام پر رکھا گیا ہے۔
شیر شیرنی کی اس جوڑی کو حال ہی میں تریپورہ کے زولوجیکل پارک سے لایا گیا تھا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے شیروں کے نام تبدیل نہیں کیے ہیں۔ ان کا نام 13 فروری کو یہاں آنے سے پہلے ہی رکھا گیا تھا۔جبکہ وی ایچ پی کا کہنا ہے کہ شیروں کا نام ریاستی محکمہ جنگلات نے رکھا ہے۔ سیتا کو اکبر کے ساتھ رکھنا ہندو مذہب کی توہین ہے۔ اس معاملے میں ریاستی جنگلات کے افسران اور سفاری پارک کے ڈائریکٹر کو فریق بنایا گیا ہے۔ سنگل بنچ کے جج جسٹس سوگتا بھٹاچاریہ نے مغربی بنگال حکومت سے کہا کہ وہ شیر اور شیرنی کو کوئی اور نام دینے پر غور کرے، تاکہ کسی بھی تنازعہ کو ختم کیا جاسکے۔
عدالت نے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں لوگ سیتا کی پوجا کرتے ہیں۔ جبکہ اکبر ایک موثر، کامیاب اور سیکولر مغل بادشاہ تھا۔ بنچ نے ریاستی حکومت سے پوچھا تھا کہ وہ بتائے کہ کیا تریپورہ سے سلی گوڑی سفاری پارک لائے گئے دو شیروں کو محکمہ جنگلات نے سیتا اور اکبر کا نام دیا تھا؟اس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل (اے اے جی) دیبجیوتی چودھری نے عدالت کو بتایا کہ ریاست نے جانوروں کو کوئی نام نہیں دیا ہے۔اے اے جی نے واضح کیا کہ یہ نام تریپورہ چڑیا گھر کے عہدیداروں نے دیے تھے۔ اے اے جی نے کہا کہ جانوروں کی پیدائش 2016 اور 2018 میں ہوئی تھی۔ 5 سال تک کسی نے بھی ان ناموں کو چیلنج نہیں کیا، لیکن ایک بار جب وہ مغربی بنگال آئے تو انہوں نے یہ تنازعہ شروع کر دیا۔



