سرورققومی خبریں

دہلی کی اَب 150 سال قدیم سنہری مسجد پر’ بلڈوزر کا خطرہ منڈلانے لگا

نئی دہلی،یکم مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) نئے ہندوستان میں دہلی کی 700 سال پرانی شاھی سنہری مسجد اور 900 پرانے اخوند جی مزار پر ڈی ڈی سی کی بلڈوزر کارروائی کے بعد اب 150 سال پرانی مسجد کی ممکنہ باری ہے۔ این ڈی ایم سی یعنی نئی دہلی میونسپل کونسل نے دہلی میں واقع سنہری باغ مسجد کو ہٹانے کے لیے لوگوں سے تجاویز مانگی ہیں۔ تاہم لوگوں کی تجاویز آنے سے پہلے ہی یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔مسجد کے امام 150 سال پرانی سنہری باغ مسجد کے مجوزہ انہدام کے معاملے کو لے کر ہائی کورٹ پہنچے ہیں، جس پر 28 فروری کو سماعت ہوئی تھی۔ بدھ کی سماعت کے دوران، دہلی ہائی کورٹ کو بتایا گیا کہ قومی دارالحکومت میں سنہری باغ مسجد کے مجوزہ انہدام کا معاملہ اس کی سفارش کے لیے ہیریٹیج کنزرویشن کمیٹی (ایچ سی سی) کو بھیج دیا گیا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ سنہری باغ مسجد کے امام کی ایک عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کے 24 دسمبر کے عوامی نوٹس کو چیلنج کیا گیا تھا، جس میں مسجد کو ہٹانے کے بارے میں عام لوگوں سے اعتراضات- مشورے طلب کیے گئے تھے۔ دہلی ہائی کورٹ میں ٹریفک پولیس کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ سنجے جین نے کہا کہ درخواست اس مرحلے پر فضول ہے، کیونکہ معاملہ ایچ سی سی کے سامنے زیر التوا ہے اور درخواست گزار کمیٹی کے فیصلے کی پیشین گوئی نہیں کر سکتا۔

جسٹس سچن دتہ نے اس پہلو پر درخواست گزار کے وکیل سے بھی سوال کیا اور پوچھا کہ کیا فی الحال درخواست پر بحث کی جا سکتی ہے، کیونکہ انہدام کا خطرہ ایچ سی سی کی سفارش کے بعد ہی آئے گا۔ عرضی گزار کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل ویراج آر داتار نے کہا کہ وہ این ڈی ایم سی کی کارروائی کی قانونی حیثیت کو چیلنج کر رہے ہیں اور اگر یہ پٹیشن دائر نہ کی گئی ہوتی اور ایچ سی سی کی طرف سے ایک مخالف سفارش کی جاتی تو انہیں 48 گھنٹوں کے اندر عدالت میں آنا پڑے گا۔

دراصل دسمبر کے مہینے میں ہی این ڈی ایم سی نے دہلی میں ادیوگ بھون کے سامنے گول چکر پر واقع 150 سال پرانی سنہری باغ مسجد کو ہٹانے کے لیے لوگوں سے تجاویز مانگی تھیں۔ این ڈی ایم سی نے کہا تھا کہ لوگ مسجد سے متعلق اپنی تجاویز یکم جنوری کی شام 5 بجے تک بھیج سکتے ہیں۔ این ڈی ایم سی کا کہنا ہے کہ ٹریفک کی آسانی کے لیے اس مسجد کو ہٹانا لازمی ہے۔

آپ کو بتا دیں کہ کچھ دن پہلے ڈی ڈی اے نے مہرولی کے علاقے میں اس 900 سال پرانے اخوند جی مزار کو غیر قانونی کہتے ہوئے بلڈوزر سے گرا دیا تھا۔ 21 فروری کو ہی دہلی ہائی کورٹ نے علاقے میں مبینہ ٹریفک جام کی وجہ سے سنہری باغ مسجد کے مجوزہ انہدام کے خلاف دائرپی آئی ایل پر غور کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس منموہن سنگھ اور جسٹس من میت پی ایس اروڑہ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ اسی طرح کی ایک عرضی پہلے ہی ہائی کورٹ کے ایک جج کے سامنے زیر التوا ہے اور اسے حکم دینے کی ضرورت نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button