بین الاقوامی خبریں

امریکہ : صرف صدر کے پاس جوہری ہتھیار کے استعمال کا اختیار نہیں ہونا چاہئے

جوہری

ڈیمو کریٹس کا بائیڈن کو خط,صرف صدر کے پاس جوہری ہتھیار کے استعمال کا اختیار نہیں ہونا چاہئے

واشنگٹن:(ایجنسیاں)امریکہ کے صدر کے ساتھ ہمیشہ ایک فوجی مددگار ایک بیگ اٹھائے چلتا ہے جس میں جوہری ہتھیار چلانے کے لیے درکار لانچنگ کوڈز موجود ہوتے ہیں۔ صدر کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ جوہری جنگ کا حکم دیں یا دشمن کے اس طرح کے حملے کا جواب دیں۔

اب موجودہ صدر کی سیاسی جماعت سے اراکین پارلیمنٹ نے وائٹ ہاؤس میں ایک خط بھجوایا ہے جس میں وہ اپنے ہی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اس طرح کے یکطرفہ کلی اختیارات سے دست بردار ہو جائیں۔ایوان کے 31 ڈیموکریٹک ممبروں کے دستخط شدہ ایک خط کے مطابق، کسی اہک فرد کو ایسے اختیار دینے سے حقیقی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں امریکہ کے صدور کی طرف سے یہ دھمکی آتی رہی ہے کہ وہ دوسرے ممالک پر جوہری ہتھیاروں سے حملہ کریں گے یا انہوں نے ایسے طرز عمل کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے دوسرے عہدے دار صدر کے فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں۔یہ خط لکھنے میں رکن کانگریس جمی پینیٹا اور ٹیڈ لیو نے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔

دونوں کا تعلق ریاست کیلی فورنیا سے ہے۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جوہری حملے کے احکامات سے پہلے نائب صدر اور ہاؤس اسپیکر جیسے عہدے داروں کی رضا مندی لی جائے۔میڈیا کو بتایا گیا کہ میرے کولیگز اور میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر کے از سر نو جائزے کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین ہو کہ ہم کس طرح جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے اختیار کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔

اس کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا ہے نہ کہ اس کو خطرات سے دوچار کرنا۔ان کا کہنا ہے کہ ہم تجویز کر رہے ہیں کہ صدر جوہری ہتھیار چلانے کا حکم دینے سے قبل مکمل چھان بین کریں اور ماہرین کی آرا کے علاوہ مشاورت سے یہ فیصلہ کریں۔یہ خط پیر کو وائٹ ہاؤس بھجوایا گیا، اس میں صدر کے پاس جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق مطلق اختیارات کا متبادل بھی تجویز کیا گیا ہے۔

چھ جنوری کو کیپٹل ہل پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے کے دو دن بعد ہاؤس اسپیکر نینسی پیلوسی نے اپنے ڈیموکریٹس ساتھیوں کو بتایا تھا کہ انہوں نے جوائنٹس چیفس آف اسٹاف سے ان کے بقول ذہنی طور پر غیر مستحکم صدر کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال سے دور رکھنے سے متعلق بات کی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button