اسلحہ لائسنس فراڈ کیس،مختارانصاری مجرم،آج ہوگا سزا کا اعلان
وارانسی مافیا ڈان مختار انصاری کو اسلحہ لائسنس فراڈ کیس میں سزا سنائی جائے گی
وارانسی ،12مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)وارانسی مافیا ڈان مختار انصاری کو اسلحہ لائسنس فراڈ کیس میں سزا سنائی جائے گی۔ وارانسی کی ایم پی-ایم ایل اے عدالت بدھ کو اپنا فیصلہ دے سکتی ہے۔ یہ معاملہ 36 سال پرانے جعلی بندوق کے لائسنس سے متعلق ہے۔ اس میں مختار انصاری پر ڈی ایم اور ایس پی کے دستخط جعلی بنا کر لائسنس حاصل کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ باندہ جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اس کیس کی سماعت میں مختار انصاری شامل تھا۔اسپیشل جج (ایم پی-ایم ایل اے کورٹ) اونیش کمار گوتم کی عدالت میں آخری سماعت 27 فروری کو ہوئی تھی جس میں دونوں فریقوں کے دلائل مکمل ہوئے تھے۔ اس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ 12 مارچ کو سنانے کا فیصلہ کیا تھا تاہم آج عدالت نے مختار کو مجرم قرار دیتے ہوئے فیصلہ کل تک کے لیے ملتوی کردیا۔
درحقیقت، 4 دسمبر 1990 کو محمد آباد پولیس اسٹیشن میں مختار انصاری سمیت 5 نامزد اور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران گوری شنکر سریواستو کی موت ہوگئی اور اس معاملے میں سابق سی ایس آلوک رنجن اور سابق ڈی جی پی دیوراج نگر نے بھی اپنے بیانات قلمبند کرائے تھے۔ تحقیقات کے بعد اس وقت کے آرڈیننس کلرک گوری شنکر سریواستو اور مختار انصاری کے خلاف عدالت میں چارج شیٹ داخل کی گئی۔ اس کیس میں 10 لوگوں نے گواہی دی تھی۔ مختار انصاری پر دھوکہ دہی سے اسلحہ لائسنس حاصل کرنے کا الزام تھا۔ اس معاملے میں سابق چیف سکریٹری اور سابق ڈی جی پی نے بھی گواہی دی تھی۔
اطلاعات کے مطابق مختار انصاری پر 10 جون 1987 کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر ڈبل بیرل بندوق کا لائسنس حاصل کرنے کا الزام تھا۔ مختار انصاری کیخلاف غازی پور ضلع کے محمد آباد تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ان دفعات کے تحت مختار کے خلاف خصوصی ایم پی ایم ایل اے کورٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سماعت میں مختار انصاری نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ اس کے ساتھ اس نے دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی۔ الزام یہ تھا کہ غازی پور کے اس وقت کے ڈی ایم اور ایس پی کے فرضی دستخطوں سے سفارش حاصل کرکے لائسنس حاصل کیا گیا تھا۔



