الیکشن کمشنروں کی تقرری پر روک نہیں:سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کو لے کر بڑا تبصرہ کیا
نئی دہلی،15مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کو لے کر بڑا تبصرہ کیا ہے۔ الیکشن کمشنرز کی تقرری کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ فی الحال وہ اس تقرری پر کوئی روک نہیں لگا رہی۔ تین ججوں کی بنچ اس درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔ آپ کو بتا دیں کہ درخواست گزار نے عدالت سے اس تقرری پر فی الحال روک لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے لیے دی گئی دلیل یہ تھی کہ عدالت پہلے بھی ایسے فیصلے دے چکی ہے۔درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ نئے قانون کے مطابق دو الیکشن کمشنرز بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے گزشتہ سال 2 مارچ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بارے میں بھی جانکاری دی۔ وکاس سنگھ نے کہا کہ اس فیصلے میں سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ ان عہدوں پر تقرریاں چیف جسٹس، وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر پر مشتمل ایک کمیٹی کے ذریعے کی جائیں۔ اگر سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کوئی شق دی ہے تو اسے اس طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس عرضی کی سماعت کے دوران جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ یہ معاملہ پہلے بھی دو بار آیا ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ عام طور پر ہم قانون پر پابندی نہیں لگاتے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم عبوری احکامات کے ذریعے قوانین کو نہیں روکتے۔ قابل ذکر ہے کہ بیوروکریٹس سکھبیر سنگھ سندھو اور گیانیش کمار کو جمعرات کو ملک کے اگلے الیکشن کمشنر کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔
دونوں نوکرشاہوں کو الیکشن کمشنر بنانے کا فیصلہ پی ایم مودی کی قیادت والی پینل نے لیا تھا۔ وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری بھی اس پینل میں تھے۔ آپ کو بتا دیں کہ سکھبیر سندھو اور گیانیش کمار 1988 بیچ کے ریٹائرڈ آئی اے ایس افسر ہیں۔ سندھو آئی اے ایس کے اتراکھنڈ کیڈر سے ہیں جبکہ کمار کیرالہ کیڈر سے ہیں۔سندھو اس سے قبل اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے چیئرمین سمیت اہم سرکاری عہدوں پر رہ چکے ہیں۔ کمار نے پارلیمانی امور کی وزارت اور امت شاہ کی قیادت میں تعاون کی وزارت میں سکریٹری کے طور پر کام کیا ہے۔



