پپو یادو کی پارٹی کا کانگریس میں انضمام، پورنیہ نشست سے لڑ سکتے ہیں الیکشن
پپو یادو کی پارٹی کے کانگریس میں انضمام کے بعد دانش علی بھی کانگریس میں شامل
نئی دہلی،20مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)پپو یادو نے اپنی پارٹی کو کانگریس میں انضمام ہوگیا ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے پہلے سابق ایم پی نے جن ادھیکار پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ پورنیہ سیٹ سے لوک سبھا الیکشن لڑ سکتے ہیں۔ ان کی بیوی رنجیت رنجن کانگریس کی راجیہ سبھا رکن ہیں۔ان کے بیٹے سارتھک بھی کانگریس میں شامل ہو گئے۔ ذرائع کے مطابق پپو یادو کو کانگریس میں شامل کرانے میں پرینکا گاندھی نے اہم کردار ادا کیا۔کانگریس میں شامل ہونے کے بعد پپو یادو نے کہا کہ جن ادھیکار پارٹی نے تین الیکشن لڑے۔ اس میں دو اسمبلیوں اور ایک لوک سبھا کے انتخابات شامل ہیں۔ اس جماعت نے طویل عرصے سے جدوجہد کی ہے۔ ہماری جماعت خدمت،انصاف اور جدوجہد کے لیے جانی جاتی ہے۔ ہمارا پورا نظریہ کانگریس کے نظریے کے ساتھ رہا ہے۔ کانگریس کے نظریے نے ہمیشہ ہمیں توانائی دی ہے۔
ہماری سیاست کی بنیاد سیکولر رہی ہے۔ کسی مذہب پر حملہ نہیں۔ ہر حال میں دوسروں کی رائے کا احترام کرنا میری تاریخ رہی ہے۔پپو یادو نے کہا کہ راہل گاندھی میں دنیا کے سب سے بڑے ڈکٹیٹر سے لڑنے کی ہمت ہے۔ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کا اعتماد میرے لیے سب کچھ ہے۔ دو لوگوں کے اعتماد نے ہمیں ہمت دی ہے۔ کسی نے ہندوستان کے لوگوں کا دل جیت لیا ہے۔ اگر ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔
کسی نے لوگوں میں امید جگائی ہے، وہ راہل گاندھی ہیں۔ سماجی انصاف کے تئیں ان کی وابستگی سے متاثر ہو کر ہم نے کانگریس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہم لالو یادو اور تیجسوی یادو مل کر 2024 کا الیکشن لڑیں گے۔ اور 2025 کے اسمبلی انتخابات بھی جیتیں گے۔ اس سے پہلے منگل کو پپو یادو نے آر جے ڈی سربراہ لالو یادو اور بہار میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کی تصویر شیئر کرتے ہوئے پپو یادو نے کہا کہ ملاقات خاندانی ماحول میں ہوئی۔ ہم نے مل کر بہار میں بی جے پی کو صفر پر آؤٹ کرنے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
پپو یادو کی پارٹی کے کانگریس میں انضمام کے بعد دانش علی بھی کانگریس میں شامل
نئی دہلی،20مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)لوک سبھا انتخاب سے ٹھیک پہلے بہار اور اتر پردیش میں کانگریس مضبوط ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف بہار میں جہاں پپو یادو کی پارٹی ’جن ادھیکار پارٹی‘ (جاپ) نے خود کو کانگریس میں انضمام کر لیا ہے، وہیں دوسری طرف اتر پردیش میں امروہہ سے رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی نے بھی کانگریس کی رکنیت اختیار کر لی ہے۔ یہ دونوں خبریں متعلقہ ریاستوں میں کانگریس کارکنان کے لیے حوصلہ بخش تصور کیا جا رہا ہے۔پپو یادو نے آج کانگریس صدر دفتر میں پارٹی کے سینئر لیڈر پون کھیڑا اور دیگر لیڈران کی موجودگی میں اپنی پارٹی کو کانگریس میں ضم کرنے کا اعلان کیا۔ اس سے قبل جاپ لیڈر پپو یادو نے منگل کی شب آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو اور تیجسوی یادو سے رابڑی دیوی کی رہائش پر ملاقات بھی کی تھی اور اپنی اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ وہ کانگریس میں اپنی پارٹی کو ضم کرنے والے ہیں۔
بہرحال، جاپ کے کانگریس میں انضمام کے بعد کانگریس لیڈر پون کھیڑا نے کہا کہ جاپ اور پپو یادو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ پپو یادو ایک قدآور لیڈر ہیں۔ وہ آج کانگریس پارٹی کی قیادت اور پالیسیوں سے متاثر ہو کر کانگریس میں شامل ہوئے ہیں۔ جاپ کا کانگریس میں انضمام غیر معمولی عمل نہیں ہے، بلکہ یہ تاریخی ہے۔ بہار کے کانگریس انچارج موہن پرکاش نے پپو یادو کی پارٹی کا کانگریس میں انضمام کرایا اور اس موقع پر پپو یادو کے بیٹے سارتھک یادو بھی موجود رہے۔



