بین الاقوامی خبریں

ہمارے پیاروں کی نعشیں ملبے کے نیچے ہیں، فلسطینیوں کی دہائی

اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اسپتالوں اور طبی مراکز پر اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں

غزہ ، 26مارچ:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)غزہ کی پٹی پر اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اسپتالوں اور طبی مراکز پر اسرائیلی حملے بدستور جاری ہیں اور ان میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ حالیہ اسرائیلی حملوں سے فرار ہونے والے فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان کے لواحقین کی نعشیں اب بھی ملبے کے نیچے ہیں۔فلسطینی ہلال احمر نے اپنے ایک مختصر بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسز نے امل اسپتال اور ناصر اسپتال کا محاصرہ کر رکھا ہے۔اسرائیلی فورسز نے اسپتالوں اور اطراف میں بمباری اور فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو شہید اور زخمی کردیا ہے۔دوسری طرف اسرائیلی فوج نے شفا اسپتال کا محاصرہ 8 ویں روز بھی جاری رکھا اور شفا اسپتال سے 170 سے زیادہ جنگجوؤں کو قتل کرنے اور 480 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔

جنگ کے آغاز سے ہی شفا میڈیکل کمپلیکس زمینی کارروائیوں کا مرکز بن گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے بار بار اس پر دھاوا بولا جارہا ہے۔ اسرائیل اپنے حملوں کے جواز میں دعویٰ کر رہا ہے کہ حماس کی جانب سے اسپتال کے تہ خانوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ حماس نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔اسرائیل نے شفا کمپلیکس کو حماس کی جانب سے فوجی کمانڈ سینٹر کے طور پر استعمال کرنے کے ثبوت بھی پیش کئے تھے۔

ان ثبوت پر اوپن سورس ڈیٹا، سیٹ لائٹ تصاویر پر انحصار کرنے والی امریکی رپورٹس نے سوالات اٹھائے تھے اورنتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ اسرائیلی ثبوت الزامات کی سطح تک نہیں پہنچے ہیں۔یاد رہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ میں صحت کے نظام پر اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ جس کی وجہ سے محصور غزہ کی پٹی میں زیادہ تر اسپتال اور طبی سہولیات بند ہو گئی ہیں۔ اسرائیل نے ہر بار اپنے حملوں کا جواز ان صحت کی مراکز کے اندر حماس تحریک کے لیے سرنگوں، اڈوں، یا اسلحے کے ڈپو کی موجودگی کا دعویٰ کرکے پش کیا۔ تاہم اپنے دعویٰ کے حق میں واضح اور ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کئے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button