بین الاقوامی خبریںسرورق

سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد منظور، امریکہ کی رائے شماری میں پرہیز

غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر عملدرآمد میں ناکامی ناقابل معافی ہوگا: انتونیوگوتریس

جنیوا، 26مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالوں کی غیر مشروط رہائی کے مطالبے پر مبنی قرار داد منظور کرلی ہے البتہ امریکہ نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔پیر کو سلامتی کونسل کے 10 رکن ممالک کی پیش کردہ قرار داد پر ووٹنگ ہوئی جس کے حق میں سوائے امریکہ کے دیگر 14 ارکان نے ووٹ دیا۔اس سے قبل امریکہ چھ ماہ سے غزہ کی پٹی میں جاری جنگ کو روکنے کے لیے قرارداد پر کارروائی کو ویٹو کرتا رہا ہے۔گزشتہ چھ ماہ سے اسرائیل حماس جنگ کے دوران بڑے پیمانے پر فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد جنگ بندی کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے جس کے بعد مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان میں جنگ بندی کی قرارداد منظور ہو گئی ہے جب کہ اس بار امریکہ نے قرارداد ویٹو کرنے کے بجائے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ہے۔

گزشتہ برس سات اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیوں سے چھ ماہ کے دوران 32 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی اموات ہو چکی ہے۔اس سے قبل سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں اسرائیل کے مطابق اس کے 1200 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔سلامتی کونسل سے منظور ہونے والی قرار داد میں حماس کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے اسرائیلی شہریوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔اسرائیل کے مطابق حماس نے سات اکتوبر کے حملے کے دوران اس کے 253 شہریوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

قرار داد میں غزہ کے لیے امدادی کارروائیوں اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے اقدامات میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے قبل رپورٹ کیا تھا کہ اگر امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرار داد کو ویٹو نہیں کیا تو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو واشنگٹن ڈی سی کا اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیں گے۔اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر لنڈا تھامسن گرین فیلڈ کا کہنا تھا کہ اسرائیلی اہداف کے لیے امریکہ کی حمایت محض زبانی کلامی نہیں ہے بلکہ ہم سفارت کاری کے ذریعے اس کے عملی اظہار کے لیے روز و شب مصروف ہیں۔ کیوں کہ ہم سفارت کاری کے ذریعے ہی اس ایجنڈا کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے یرغمالوں کی رہائی میں پہل کر کے فوری جنگ بندی کرائی جا سکتی ہے اس لیے ہمیں حماس پر دباؤ بڑھانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نے قرار داد پر رائے شماری میں اس لیے حصہ نہیں لیا کہ ہم اس میں شامل تمام نکات سے متفق نہیں اور نہ ہی قرار داد میں حماس کی مذمت کی گئی ہے۔امریکہ اس سے قبل غزہ جنگ پر سلامتی کونسل کی تین قرار دادیں ویٹو کرچکا ہے۔اس سے قبل دو مرتبہ غزہ میں انسانی امداد میں اضافے اور لڑائی روکنے پر زور دینے کی قرار دادوں پر رائے شماری سے غیر حاضر رہا ہے۔سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان میں روس اور چین بھی غزہ تنازع پر امریکہ کی دو قرار دادیں ویٹو کر چکے ہیں جن میں سے ایک اکتوبر میں اور دوسری تین دن قبل جمعے کو پیش کی گئی تھی۔


غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پر عملدرآمد میں ناکامی ناقابل معافی ہوگا: انتونیوگوتریس

UnitedــNationsـSecretaryـGeneralـAntonioـGuterres
اقوام متحدہ سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹریس

جینوا، 26مارچ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے سلامی کونسل کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی سے متعلق قراردادکی منظوری کا خیر مقدم کیا ہے۔اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ فوری جنگ بندی بہت دیرینہ مطالبہ تھا، سلامتی کونسل کی قرارداد پر ضرور عملدر آمد ہوناچاہیے۔سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ نے کہا کہ قراردادپر عملدرآمد میں ناکامی ناقابل معافی فعل ہوگا۔دوسری جانب غزہ جنگ بندی کی قرارداد ویٹو نہ کرنے پر امریکا سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی نیتن یاہو نے وفد کا واشنگٹن کا دورہ منسوخ کر دیا۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کو ویٹو نہ کرنے کے بعد وہ اپنا وفد واشنگٹن نہیں بھیجیں گے۔نیتن یاہو نے اپنے دفتر کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق کہا کہ واشنگٹن کی قرارداد کو ویٹو کرنے میں ناکامی اپنے سابقہ مؤقف سے ’واضح انحراف‘ ہے اور اس سے غزہ میں حماس کیخلاف اقدامات کے ساتھ ساتھ 130 سے زائد مغویوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ امریکی پوزیشن میں تبدیلی کے پیش نظر وزیر اعظم نیتن یاہو نے فیصلہ کیا ہے کہ وفد نہیں جائے گا۔دوسری جانب امریکہ کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کی قرارداد ووٹنگ میں حصہ نہ لینا پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ نہیں ہے۔’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ میں امریکا کی عدم شرکت اس کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ نہیں دیتی۔قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ اس سے ہماری پالیسی میں تبدیلی کی نشاندہی نہیں ہوتی، امریکا جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے، لیکن کیونکہ قرارداد میں حماس کی مذمت نہیں کی گئی، اس لیے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل اور حماس کے درمیان فوری جنگ بندی اور تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔امریکا نے قرارداد پر ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا ،جب کہ سلامی کونسل کے بقیہ 14 اراکین نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔

جنگ بندی کی قرارداد کو سلامتی کونسل کے 10 منتخب اراکین نے تجویز کیا تھا۔قرارداد میں تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔سلامتی کونسل کی قرارداد میں غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے لیے انسانی امداد کی ترسیل کو بڑھانے اور اس کو بہتر کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے اور انسانی امداد کی فراہمی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو ہٹانے کے مطالبے کا اعادہ کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکا نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد پیش کی تھی جسے روس اور چین نے مسترد کردیا تھا جب کہ سیز فائر کے حوالے سے پچھلی قرارداد کو امریکا نے ویٹو کردیا تھا.یاد رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں کم از کم 32 ہزار 142 فلسطینی شہید اور 74 ہزار 412 زخمی ہو چکے ہیں جب کہ حماس کے حملوں میں اسرائیل میں مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 139 ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button