اسرائیل پر حملے سے قبل ایران نے ترکیہ کے ذریعہ امریکہ کو پیغامات دئیے
تقریباً 72 گھنٹے قبل ہم نے خطے میں اپنے دوستوں اور ہمسایہ ممالک کو مطلع کر دیا
لندن، 15اپریل :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیل پر ایرانی حملے کے چند گھنٹے بعد ترکیہ کے ایک سفارتی ذریعے نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان انقرہ کے راستے ایک کال کا راز فاش کیا ہے۔ اس کال میں ایران کی طرف سے اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرون کے استعمال کی ہدایت کی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ ایران نے ترکیہ کے ذریعے امریکہ کو حملے کی پیشگی اطلاع دے دی تھی۔
اس طرح اس پیغام کی وجہ سے اسرائیل کو ایرانی حملے کے وقت کا علم تھا۔ذریعے نے اپنے بیانات میں کہا کہ ایران نے ترکیہ کو اسرائیل کے خلاف اپنے منصوبہ بند آپریشن کے بارے میں پیشگی مطلع کر دیا تھا۔
اسی وجہ سے اردن، اسرائیل اور لبنان سمیت کئی ملکوں نے حملے سے قبل اپنی فضائی حدود بند کردی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترک فریق نے امریکی فریق کو ایرانی پیغام کے مواد سے آگاہ کیا۔ امریکی فریق نے ترکیہ کے ذریعے ایران تک پہنچایا کہ اس کی کارروائیاں مخصوص حدود میں ہونی چاہئیں۔ذرائع نے کہا کہ ایران نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ اس کی کارروائی صرف سفارت خانے پر حملے کا جواب ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھے گا۔ اس سے قبل اتوار کو ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے اپنے ایرانی ہم منصب کو فون پر مطلع کیا تھا کہ ترکیہ اسرائیل پر حملے کے بعد خطے میں مزید کشیدگی نہیں بڑھانا چاہتا۔
امریکہ کو آگاہ کیا ہے کہ اسرائیل پر ہمارے حملے محدود ہوں گے: ایرانی وزیر
ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کو تہران میں غیر ملکی سفراء کے ساتھ ملاقات میں کہا، ایران نے امریکہ کو مطلع کیا کہ اسرائیل کے خلاف اس کے حملے محدود اور اپنے دفاع کے لیے ہوں گے۔امیر عبداللہیان نے یہ بھی کہا کہ ایران نے اسرائیل پر جوابی حملوں سے 72 گھنٹے پہلے اپنے ہمسایہ ممالک کو مطلع کر دیا تھا۔انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اپنی کارروائیوں سے تقریباً 72 گھنٹے قبل ہم نے خطے میں اپنے دوستوں اور ہمسایہ ممالک کو مطلع کر دیا تھا کہ اسرائیل کے خلاف ایران کا ردِعمل یقینی، جائز اور ناقابلِ تنسیخ تھا۔ترکیہ کے سفارتی ذرائع نے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے فیدان کو بتایا کہ اسرائیل کے خلاف جوابی کارروائی ختم ہو گئی ہے اور اب ایران اس وقت تک کوئی نیا آپریشن شروع نہیں کرے گا جب تک اس پر حملہ نہیں کیا جاتا۔
ایران سے جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی، اسرائیلی کابینہ کا جوابی کارروائی پر غور
اسرائیل کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ابھی جنگ ختم نہیں ہوئی ہے، ابھی مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے حملے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی زیر صدارت اجلاس جاری ہے جس میں وزیر دفاع یوو گیلنٹ، اور نیشنل یونین پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر دفاع بینی گانٹز، اسٹریٹجک امور کے وزیر رون ڈرمر اور سیاست دان گاڈی آئزن کوٹ بھی شریک ہیں۔ابھی اسرائیلی کابینہ ایران کے حملے پر جوابی کارروائی کے لیے حکمت عملی طے کر رہی ہے، لیکن اس حوالے سے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے جب کہ امریکا پہلے ہی ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے سے معذرت کر چکا ہے۔
تاہم ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عالمی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایرانی حملے کا بھر پور جواب دیں گے لیکن اس ردعمل کے دائرہ کار کا تعین ہونا باقی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ بھرپور جوابی کارروائی کریں گے۔اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قوم سے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیل ایران کے براہ راست حملے کی تیاری کر رہا ہے۔نیتن یاہو نے مزید کہا تھا کہ ہم نے ایک واضح اصول طے کیا ہے کہ جو کوئی ہمیں نقصان پہنچائے گا، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔



