ایران -اسرائیل نوراکشتی : کئی دہائیوں کے حریف اسرائیل اور ایران میں کب کب کشیدگی میں اضافہ ہوا؟
ایک دوسرے پر خفیہ حملوں کی طویل تاریخ ہے
نیویارک، 15اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اسرائیل اور ایران کی مخاصمت کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ البتہ تہران نے پہلی بار اسرائیل کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔دونوں ممالک پہلے بھی ایک دوسرے کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں لیکن اس کے لیے پراکیسز کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔دونوں ممالک میں حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے داغے گئے لگ بھگ 300 سے زائد ڈرون اور میزائل مار گرائے ہیں جس کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل کو فتح ملے گی۔
ایران اور اسرائیل دہائیوں پرانے حریف ہیں۔ ان کے درمیان حالیہ کشیدگی کا باعث یکم اپریل کو شام کے دارالحکومت دمشق میں ایران کے سفارت خانے پر اسرائیل کا مبینہ حملہ ہے۔ یہ حملہ ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب غزہ میں بھی جنگ جاری ہے جس کا آغاز گزشتہ برس اکتوبر میں ہوا تھا۔
اسرائیل اور ایران مشرق وسطیٰ کے ایسے حریف ہیں جن کو ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا ہے۔دونوں ممالک کی زمینی، بحری، فضائی اور سائبر اسپیس کے ذریعے ایک دوسرے پر خفیہ حملوں کی طویل تاریخ ہے۔ایران کے مغرب نواز رہنما محمد رضا شاہ اسرائیل کو اپنا اتحادی سمجھتے تھے۔
رضا شاہ کو ایران میں ایک ایسے انقلاب کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا گیا جس کو ’اسلامی انقلاب‘ قرار دیا جاتا ہے۔یہ تحریک اسرائیل مخالف ہونے کے علاوہ ایک نظریاتی حکومت کے قیام کا سبب بھی بنی۔
1982:اسرائیل نے جب لبنان پر حملہ کیا تو ایران کے پاسدارنِ انقلاب نے لبنان کے اہل تشیع مسلمانوں کے ساتھ مل کر حزب اللہ کی بنیاد رکھی۔اسرائیل حزب اللہ کو اپنی سرحدوں پر خطرناک دشمن قرار دیتا ہے۔
1983:ایران کی پشت پناہی میں سرگرم حزب اللہ لبنان سے مغربی افواج اور اسرائیلی فورسز کو نکالنے کے لیے خودکش بمباروں کا استعمال شروع کیا۔
نومبر 1983 میں دھماکہ خیز مواد سے بھری ہوئی ایک کار اسرائیل کی فوج کے ہیڈ کوارٹر میں گھس گئی جس سے دھماکہ ہوا۔ان حملوں کے بعد اسرائیل بعد ازاں لبنان کے زیادہ تر حصوں سے دستبردار ہو گیا اور وہاں سے اپنی افواج کا انخلا مکمل کیا۔
1992-94:جنوبی امریکہ کے ملک ارجنٹائن اور اسرائیل نے ایران اور حزب اللہ پر 1992 میں ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس اور 1994 میں ایک یہودی سینٹر میں ہونے والے خود کش دھماکوں کا الزام لگایا۔ان دونوں دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔تاہم ایران اور حزب اللہ نے ان دھماکوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی تھی۔
2002:دو دہائیاں قبل یہ انکشاف ہوا کہ تہران نے یورینیم افزودہ کرنے کا خفیہ پروگرام شروع کیا ہوا ہے جس کے بعد اس تشویش نے جنم لیا کہ ایران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی خبروں کی ایران تردید کرتا رہا ہے۔اسرائیل نے اسی تشویش کے سبب ایران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
2009:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ایک خطاب میں اسرائیل کو ایک خطرناک اور مہلک ملک قرار دیا۔
2010:امریکہ اور اسرائیل کا تیار کردہ کمپیوٹر وائرس‘اسٹکس نیٹ’کو ایران کی یورینیم افزودگی کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا۔یہ صنعتی مشینری پر کیا جانے والا پہلا سائبر حملہ تھا جس کے بارے میں معلومات عام ہوئیں۔
2012:ایرانی جوہری سائنس دان مصطفی احمدی روشن تہران میں ان کی گاڑی میں نصب کردہ بم کا نشانہ بنے۔ان کی گاڑی میں یہ بم ایک موٹر سائیکل سوار نے نصب کیا تھا۔ایران کے اعلیٰ حکام کی طرف سے اسرائیل پر اس حملے کا الزام لگایا گیا تھا۔
2018:اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی طاقتوں کے ساتھ ایران کے جوہری معاہدے سے نکلنے کا خیر مقدم کیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے کو تاریخی اقدام قرار دیا۔اسی سال مئی میں اسرائیل نے کہا کہ اس نے شام میں ایران کی عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جن کو تہران شام میں خانہ جنگی میں صدر بشار الاسد کی حمایت کے لیے استعمال کر رہا تھا۔
2020:اسرائیل نے بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ایران کے پاسداران انقلاب کے بیرونِ ملک کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا خیر مقدم کیا۔ایران نے عراق میں امریکی فوجیوں کے ٹھکانوں پر میزائلوں کے ذریعے جوابی حملے کیے جن میں لگ بھگ 100 امریکی فوجی اہل کار زخمی ہوئے۔
2021:محسن فخری زادہ کو ایران کے جوہری پروگرام کا ماسٹرمائنڈ مانا جاتا ہے۔ ان کو دسمبر 2020 میں قتل کیا گیا تھا۔ایران نے محسن فخری زادہ کے قتل کا الزام اسرائیل پر لگایا جسے مغربی انٹیلی جینس ایجنسیاں بھی جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے خفیہ ایرانی پروگرام کا ماسٹر مائنڈ سمجھتی تھیں۔
2024:شام کے شہر دمشق میں ایران کے سفارت خانے پر ایک مبینہ اسرائیلی فضائی حملے میں پاسداران انقلاب کے دو اعلیٰ کمانڈروں سمیت سات اہل کار ہلاک ہوئے۔اسرائیل نے اس حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ایران نے 13 اپریل کو اسرائیلی سر زمین پر غیر معمولی براہِ راست حملوں میں ڈرون اور میزائل استعمال کیے اور ان حملوں کو جوابی کارروائی قرار دیا۔



