قطر کا اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کے تعطل کا اعلان
جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت معطل ہوگئی
دوحہ ، 18اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)قطر نے کہا ہے کہ حماس اوراسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والی بات چیت معطل ہوگئی ہے۔قطری وزیر اعظم الشیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے گزشتہ بدھ کے روز اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اور قیدیوں کی رہائی ایک حساس مرحلے سے گذر رہی ہے۔انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر مزید کہا کہ رکاوٹوں پر قابو پانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اجتماعی سزا کی پالیسی کی مذمت کرتا ہے جس پر اسرائیل غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر عمل پیرا ہے۔الشیخ محمد نے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ بدقسمتی سے مذاکرات آگے نہیں بڑھ رہے، اس مرحلے پر ہم کچھ کمزوری کے ساتھ ایک حساس دور سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔
ہماری کوشش غزہ کی پٹی کے عوام کی مشکلات کو حل کرنا ہے اور ان کو جنگ کی مصیبت سے نجات دلانا ہے۔خیال رہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے گذشتہ کئی ہفتوں سے مذاکرات جاری رہے ہیں مگردونوں فریقین کی طرف سے پیش کردہ تجاویز اور شرائط پر قائم رہنے کی وجہ سے بات چیت کا عمل آگے نہیں ھڑ سکا ہے۔قابل ذکر ہے کہ گذشتہ جنوری کے آخر میں شروع ہونے والے میراتھن مذاکرات کے 6 دور کے بعد مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی کے باوجود حماس اور اسرائیل کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
موجودہ مذاکرات تین مرحلوں پر مشتمل معاہدے کے فریم ورک پر مبنی ہیں جس پر گذشتہ جنوری کے آخر میں پیرس میں مصر، امریکہ اور قطر کی ثالثی میں اسرائیل کے انٹیلی جنس سربراہوں کی موجودگی میں ہونے والے اجلاس میں اتفاق کیا گیا تھا۔ مذاکرات کا آخری دور گذشتہ ہفتے قاہرہ میں ہوا تھا جس کے دوران ’سی آئی اے‘ کے ڈائریکٹر ولیم برنز نے امن کے لیے ایک امریکی تجویز پیش کی تھی جسے حماس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔اس تجویز میں چھ ہفتے کی جنگ بندی کی شرط رکھی گئی ہے جس کے دوران اسرائیل کے زیر حراست 800 سے 900 فلسطینیوں کی رہائی کے بدلے 40 اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے کی تجویز شامل تھی۔اس کے علاوہ روزانہ 400 سے 500 ٹرک خوراک غزہ میں داخلے کی بھی تجویز پیش کی گئی تھی۔



