سرورققومی خبریں

ملک میں بکنے والے سیریلیک میں چینی کا ہوتا ہے استعمال : رپورٹ

بچوں کی مصنوعات میں چینی شامل کرنا خطرناک اور غیر ضروری ہے

نئی دہلی ، 18اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں نیسلے کے دو سب سے زیادہ فروخت ہونے والے بیبی فوڈ برانڈز میں بڑی مقدار میں شامل چینی پائی گئی ہے۔ سوئس کمپنیوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ پبلک آئی کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب نیسلے برطانیہ اور جرمنی جیسے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں کی خوراک کی مصنوعات فروخت کرتا ہے، تو ان میں چینی نہیں ہوتی۔ نیسلے سوئٹزرلینڈ کی ایک مشہور کمپنی ہے جس کی مصنوعات پوری دنیا میں فروخت ہوتی ہیں۔پبلک آئی نے رپورٹ کیا ہے کہ نیسلے بہت سے ممالک میں بچوں کے دودھ اور سیریلک مصنوعات میں چینی اور شہد کا استعمال کرتا ہے۔

ایسا کرنا بین الاقوامی رہنما خطوط کی خلاف ورزی ہے جس کا مقصد موٹاپے اور دائمی بیماریوں کو روکنا ہے۔ نیسلے کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کے کیسز ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ممالک میں دیکھے گئے ہیں۔ تاہم کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں تمام قوانین پر عمل کر رہی ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہندوستان میں فروخت ہونے والی تمام 15 سیریلیک بیبی پروڈکٹس میں تجویز کردہ مقدار میں اوسطاً 3 گرام چینی ہوتی ہے۔ کمپنی بتاتی ہے کہ بچوں کو ایک وقت میں سیریلیک کی کتنی مقدار دینی چاہیے۔ افریقہ میں ایتھوپیا اور ایشیا میں تھائی لینڈ جیسے ممالک میں 6 گرام تک چینی پائی گئی ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ جب وہی مصنوعات جرمنی اور برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں فروخت ہوتی ہیں تو ان میں چینی نہیں ہوتی۔نیسلے کی چالاکی کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اکثر مصنوعات کی پیکنگ پر یہ معلومات نہیں دیتا کہ اس میں کتنی چینی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نیسلے اپنی مصنوعات میں موجود وٹامنز، منرلز اور دیگر غذائی اجزاء کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے، لیکن جب چینی شامل کرنے کی بات آتی ہے تو یہ بالکل صاف نہیں ہوتی۔نیسلے نے 2022 میں ہندوستان میں 20,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے سیرلاک مصنوعات فروخت کی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی مصنوعات میں چینی شامل کرنا خطرناک اور غیر ضروری ہے۔ اس کی وجہ سے بچوں میں چینی کھانے کی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button