شوہر کے زندہ رہتے ہوئے خاتون کو بیوہ پنشن دی گئی، دلال نے بدلے میں اس کا جسمانی استحصال کیا
Widow Pension Scamخاتون کو بلیک میل کرتے ہوئے اس سے زبردستی جسمانی تعلقات استوار کئے۔
نئی دہلی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ہفرید آباد کے NIT-2 کی رہنے والی ایک خاتون کو دلالوں نے میونسپل کارپوریشن کے ملازمین کے ساتھ مل کر فرضی دستاویزات کے ذریعے دھوکہ دہی سے اس کی بیوہ پنشن بنوائی جبکہ اس کا شوہر زندہ تھا۔ خاتون نے الزام لگایا ہے کہ ڈیڑھ سال تک اس کی عزت لوٹی گئی۔ متاثرہ نے اس معاملے کی شکایت خواتین کمیشن سے کی ہے۔ خواتین کمیشن نے اس معاملے کی پولس تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
خواتین کمیشن کی چیئرپرسن رینو بھاٹیہ کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ ۔رینو بھاٹیہ نے بتایا کہ جس دلال کے ذریعے خاتون کو پنشن ملی تھی، اس نے خاتون کو بلیک میل کرتے ہوئے اس سے زبردستی جسمانی تعلقات استوار کئے۔ دلال کی نظر اب عورت کی بیٹی پر تھی۔ خاتون نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو دونوں کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی-اس کے بعد دلال نے خاتون کے خلاف شکایت درج کرائی کہ یہ خاتون بیوہ پنشن لے رہی ہے جبکہ اس کا شوہر زندہ ہے۔
رینو بھاٹیہ کے مطابق متاثرہ نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا ہے کہ تینوں ملزمان تقریباً ڈیڑھ سال سے اس کا جسمانی استحصال کر رہے ہیں۔ ایک نے شادی کرنے کا وعدہ بھی کیا۔ ملزم نے اسے دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے کسی کو بتایاتو انجام برا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس بات کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ ملزم نے مقتولہ کے شوہر کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیسے بنایا۔ پولس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ تفتیش کے بعد متعلقہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے گرفتاری عمل میں لائی جائے گی
متاثرہ خاتون نے بتایا کہ وہ NIT-2 میں رہتی ہے۔ اس کا شوہر الیکٹرانک کی دکان پر سیلز مین ہے۔متاثرہ نے شکایت میں کہا ہے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے لاڈلی یوجنا کا فائدہ اٹھانا چاہتی تھی۔ تقریباً ڈیڑھ سال قبل اس نے اپنے شوہر کے ایک دوست سے اس کا ذکر کیا۔ شوہر کے دوست نے یقین دلایا کہ وہ میونسپل کارپوریشن میں کچھ لوگوں کو جانتا ہے۔ ان کی مدد سے وہ اسے لاڈلی یوجنا کے فوائد حاصل کرے گا۔ملزم اسے میونسپل کارپوریشن لے گیا۔ اس کے بعد میونسپل کارپوریشن کے دو ملازمین نے لاڈلی یوجنا کی درخواست بھری۔ خاندان کا شناختی کارڈ بھی جعلسازی سے بنایا گیا۔ کچھ دنوں کے بعد اس کے اکاؤنٹ میں 1800 روپے آنے لگے۔
الزام ہے کہ اسی بات پر تینوں ملزمان نے اس کا جسمانی استحصال کرنا شروع کردیا۔ رینو بھاٹیہ نے بتایا کہ پوچھ گچھ کے دوران متاثرہ نے بتایا کہ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے بیوہ پنشن مل رہی ہے۔ جب اس کے بینک اکاؤنٹ میں رقم آئی تو اس نے سوچا کہ یہ رقم حکومت لاڈلی یوجنا اسکیم کے تحت بھیج رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن سے جعلی ڈیتھ سرٹیفکیٹ کیسے بنا؟ اس میں ایک دلال کا کردار سامنے آیا ہے۔ ایسا سرٹیفکیٹ بنوانے کے عوض اس نے خاتون کو ڈیڑھ سال تک جسمانی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔ تاہم یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خاتون کو معلوم نہیں تھا کہ اسے بیوہ پنشن مل رہی ہے۔ کمیشن کے چیئرپرسن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس طرح کے مزید کیسز ہو سکتے ہیں۔ اس کی مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بیٹیوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کا کسی طرح سے استحصال ہو رہا ہے تو وہ بغیر کسی خوف کے ویمن کمیشن کے پاس آئیں۔ ایسے معاملات میں سخت کارروائی کی جائے گی۔



