سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

مودی جی نے بی جے پی کو ابھارا بھی اور ڈوبا بھی دیا- ڈاکٹر رونق جمال ،درگ چھتیس گڑھ

سیاست میں اپنا قد بلند کرنے جو اقدامات کیئے جگ ظاہر ہے

 مودی جی نے پہلے سیاست میں آہستہ آہستہ پیر جمائے اور پھر پھیلائے اور گجرات کے وزیر اعلی بن گئے ۔ وزیر اعلی رہتے ہوئے گجرات کا ویکاس تو کروایا ہی لیکن سیاست میں اپنا قد بلند کرنے جو اقدامات کیئے جگ ظاہر ہے ۔ ان اقدامات کے سلسلے میں انھیں دوہزار چودہ میں وزیراعظم کا چہرا بنا کر پیش کیا گیا مودی جی نے موقع کا بھر پور فائدہ اٹھایا ۔ لچھے دار تقریریں کی ، لبھاؤنے وعدے کیئے اور سبز خواب دکھائے ۔ غیر ممالک سے کالا دھن لاؤں گا جو اتنا ہے کے ہر دیش واسی کے کھاتے میں پندرہ پندرہ لاکھ روپے ڈال دوں گا ۔سب کا ساتھ سب کا ویکاس بھی صرف جملہ ثابت ہوا ویکاس ہوا لیکن دوچار ارب پتیوں کا ہی ہوا ۔ اسی طرح کھاؤں گا نہ کھانے دوں گا جملہ بھی کھوکھلا ہی نکلا الیکٹرول بونڈ کے نام پر اب تک کا ملک کا سب سے بڑا گھوٹالا ہے ۔

کیا سارے چور بد معاش اور گھوٹالے باز مخالف پارٹیوں میں ہی ہے بی جے پی میں ایک بھی ایسا سیاست دان نہیں ہے جسکے گھر ای ڈی کو جانا چاہیئے ۔ نوجوانوں کو ہر سال دو کروڑ نوکریاں دوں گا کسانوں کی آمدنی دگنی کر دوں گا وغیرہ وغیرہ ۔ پہلی بار پارلیمنٹ میں داخلے کے وقت سیڑھیوں پر ماتھا ٹیک کر انہوں نے ہندو ازم کی بنیاد رکھی تھی ۔ کیوںنکہ چناوی وعدے جملے ثابت ہوچکے تھے ان سے پیچھا چھڑانے کے لئے مذہبی نفرت کا سہارا لیا جس میں وہ پوری طرح کامیاب ہوگئے ۔ غیر ممالک کے دوروں پر وہاں مودی مودی کروانا ایک دورے سے لوٹے نہیں کے دوسرے دورے پر چلے جانا ۔

میڈیا پر قبضہ ، عدالتوں پر قبضہ اور صوبائی سرکاروں کے ایم ایل اے خرید خرید کر صوبائی سرکاروں کو گرانا ۔ خرید وفروخت کے لئے ای ڈی ، سی بی آئ کے ذریعے مخالفین کو ڈرانا دھمکانا ۔ پہلے داغدار وں کو جیل بھیجنے کی دھمکی دینا اور وہ بی جے پی میں شامل ہوجائے تو انھیں پاک ثابت کردینا ۔ دس سالوں میں کسی بھی انٹرویو کا سامنہ نہ کرنا تکبر کے نشے میں خود کے منھ سے مودی مودی کرنا اور پارلیمنٹ میں سینۂ ٹھوک کر کہہ دینا کے ایک اکیلا مودی سب پر بھاری ہے ۔

مودی کی گیرینٹی جیسے لفظ کا سارا سارا دن استمعال کرنا اور کروانا۔ مرکز کی پوری ٹیم کو حاشیے پر ڈال دینا ۔ کورٹ کے فیصلے خود کرنا یا کروانا ۔ بابری مسجد کے پانچ سو سال کے مسلے کو ہندو ووٹرز کو خوش کرنے کے لئے چند مہینوں میں نپٹنا اور ایک طرفہ فیصلہ کروانا ۔ فیصلے کے بعد مندر تو بن گیا ۔ لیکن مسجد کا کیا ۔!؟ کب بنے گی بنیگی بھی یا نہیں !؟ رام مندر کا وقت سے پہلے افتتاح کر وانا اور پنڈتوں کو درکنار کرکے خود پران پشٹیتھا کرنے کے باعث چاروں شکتی پیٹھ کے پنڈتوں کا افتتاحی تقریب کا بائیکاٹ کرنا ۔ مودی جی کے من‌ مرضی کے فیصلے سنانے والے ججیز کو گورنر یا راجیہ سبھا کا رکن بنادیا جانا ۔

مہنگائی سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ جانا ۔ ڈیزل پیٹرول اور گھریلو گیس کی آسمان چھوتی قیمتوں نے عام آدمی کے بجٹ کو لڑکھڑادیا ہے اور زندگی کے ہر لمحے کو مشکل بنا دیا ہے ۔ کمزور حسب اختلاف کے باعث من مانی کرنا ۔ بار بار آئین کو بدلنے کی بات کرنا اور چناؤ میں ابکی بار چار سو پار کا نعرہ لگانا وہ اور انکے حواری تمام پارٹیوں پر کنبہ پروری کا الزام لگا تے ہیں جبکہ کنبہ پروری بی جے پی کی بھی کمزوری ہے ۔ کورونا کےدور میں عوام سے ویکسین کے پیسے لینا عوام کو اچھی طرح یاد ہے ۔

دواؤں ، آکسیجن گیس کی کمی ، کورونا کے نام پر جمع فنڈ کا کوئی حساب کتاب پیش نہ کرنا ، اور اب ساڑھے چھ ہزار روپے کے الیکٹرول بونڈ کا قصہ ایک سو چالیس کروڑ عوام کے زبان پر ہے ۔ کسان اپنے حق کے لئے دوبا دھلی آنا چاہئیے تھے لیکن انھیں آنے نہیں دیا گیا ۔بیچارے مہینوں ڈیرا ڈالے رہے اور کسانوں کے مطابق سات سو کسان جان بحق ہوگئے ۔ ملک کی بیٹیاں جنہوں نے گولڈ اور سلور میڈل لاکر ملک کا نام روشن کیا ۔ عزت کے سوال پر سڑکوں پر اتری لیکن مودی جی ان سے ملے تک نہیں ۔ آزادی کے بعد پہلی بار سپریم کورٹ کے وکیل مودی کے خلاف دھرنے پر پیٹھ گئے ۔ ججیز کہنے پر مجبور ہو گئے کے ہمیں کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے ۔ آزادی کے بعد پہلی بار ملٹری والے ای وی ایم کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں یہ آواز صرف ای وی ایم کے خلاف نہیں ہے ۔

پولس حراست میں انکاونٹر اور جیل میں اموات پر دنیا حیران ہے ۔ کیا ملک کی عدالتیں ناکارہ ہو گئ ہیں جو اب صوبائی حکومتیں بلڈوزر پالیسی لے کر آئ ہیں ۔ بلڈوزر چلنے سے کرتا ایک ہے اور بھرتا سارا خاندان ہے ۔ من موہن سنگھ جی وزیر اعظم تھے اور ایک ملاقات میں سونیا گاندھی کے گھر پر کھڑے تھے اور سونیا جی اور مہمان کرسی پر بیٹھے تھے اس تصویر کو لے کر مودی جی نے بہت ہنگامہ مچایا تھا ۔لیکن حال ہی میں صدر جمہوریہ ہند مورمون لال کرشن ایڈوانی جی کے گھر بھارت رتن سمان دینے کیلئے گئے تھے ۔ صدر صاحبہ کھڑی ہیں اور مودی جی کرسی پر بیٹھے ہیں ۔

مودی جی کو اپنی کمزوریاں اور غلطیاں نظر نہیں آتی لیکن دوسروں کی بہت جلدی نظر آجاتی ہے ۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر پارٹی کے اندر مودی جی کے خلاف آواز اٹھنے لگی ہے ۔ اثردار سیاست دان پارٹی چھوڑ رہے ہیں ۔ جسطرح مودی جی نے ملک کے عوام کو پندرہ لاکھ کا جھانسہ دیا تھا اسی طرح اب ووٹر فیصلہ کرکے خاموش بیٹھے پولنگ کا انتظار کر رہ ہیں ۔ جسطرح عوام کے کھاتوں میں پندرہ لاکھ نہیں آئے اسی طرح چار سوپار بھی صرف اور صرف جملہ ہی ثابت ہوگا ووٹر اس بار دو سو بھی پار نہیں کرنے دیں گے ۔ عوام لاچی ہیں بھولے ہیں پر بیوقوف نہیں ہیں ۔ مودی جی نے بی جے پی کو ابھارا تھا لیکن مودی جی کےرویہ نے بی جے پی کو ڈوبو دیا ہے ۔

متعلقہ خبریں

Back to top button