مغربی کنارے میں صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے: وولکر ترک
غزہ میں اموات اور مصائب کی سطح ناقابل تصور ہے
جینوا، 19جون:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے خبر دار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں انسانی حقوق کی حالت انتہائی تیزی سے دگرگوں ہو چکی ہے۔ جبکہ غزہ میں اموات اور مصائب کی سطح ناقابل تصور ہے۔ انسانی حقوق چیف وولکر ترک نے یہ انتباہ منگل کے روز کیا ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔وولکر ترک نے کہا ‘7 اکتوبر 2023 سے لے کر آج تک مغربی کنارے میں اسرائیلی بمباری اور یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں 528 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں۔ جن میں سے 133 بچے ہیں۔ جبکہ بعض ہلاکتوں میں انتہائی غیرقانونی انداز اختیار کیا گیا۔وولکر نے مزید کہا کہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے ہاتھوں صرف 23 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔ نیز یہ ہلاکتیں کسی تنازعے یا حملے کے دوران ہوئی ہیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ سے بے پناہ تباہی ہوئی ہے۔ نیز غزہ کے فلسطینیوں تک انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔وولکر ترک نے کہا کہ اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہوا ہے۔ یہ سلسلہ مزید جاری نہیں رہنا چاہیے۔خیال رہے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ میں 37400 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔



