جرائم و حادثاتسرورق

جھارکھنڈ میں بہت بڑا ڈیجیٹل فراڈ سائبر مجرموں نے پروفیسر کو 1.78 کروڑ روپے کا چونا لگادیا

پروفیسر نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی

رانچی،21جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا جہاں سائبر مجرموں نے ایک پروفیسر کو ڈیجیٹل طور پر گرفتار کر کے اس کے ساتھ بڑا فراڈ کیا ہے۔ ان سائبر جرائم پیشہ افراد نے پروفیسر سے 1 کروڑ 78 لاکھ روپے کی ٹھگی کی ہے۔ پروفیسر نے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔جھارکھنڈ کیے شہر اور ریاستی حکومت رانچی کے ایک مشہور اور باوقار کالج کے پروفیسر کے ساتھ ایک معاملہ سرخیوں میں آیا ہے جہاں سائبر ٹھگوں نے پروفیسر کے ساتھ بڑا دھوکہ کیا ہے۔ اس کیس میں سائبر مجرموں نے، دہلی پولیس بن کر، پروفیسر کو منی لانڈرنگ کا ملزم قرار دینے کے بعد ان کو گرفتاری کے دھمکی دیکر ڈیجیٹلی طور پر اپنی گرفت میں لے لیا۔

ان جعل سازوں کو اصلی سمجھ کر پروفیسر نے سائبر مجرموں کو 1 کروڑ 78 لاکھ روپے دے دیئے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پروفیسر نے پولیس کو بتایا کہ سائبر مجرموں نے ان کو اپنے جعل میں پھانس لیا اور ان سے ٹھگی کرلی۔ انہوں نے آگے بتایا کی پیشہ ور مجرموں نے پروفیسر سے کہا کہ کروڑوں کا گھوٹالہ ہوا ہے اور اگر انہوں نے ایک تہائی رقم بینک میں جمع کرائی تو اس پر منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگے گا، ورنہ ان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔رانچی کے پروفیسر نے مذید کہا کہ ایک دن خبروں میں دیکھا کہ سائبر کرمنلز کس طرح ڈیجیٹل گرفتاریاں کرکے لوگوں سے پیسے لے رہے ہیں۔ تب ان کو تھوڑا شک ہوا کہ ان کے ساتھ بھی فراڈ کیا گیا ہے جس کے بعد انہوں نے سی آئی ڈی سے رجوع کیا۔ سی آئی ڈی پہنچنے پر پروفیسر کو بتایا گیا کہ وہ سائبر مجرموں کے دھوکے کا شکار ہو چکے ہیں۔

سائبر کرائم برانچ کے حکام کے مطابق پروفیسر کے بیان پر ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پروفیسر کے ذریعہ جن بینک کھاتوں میں رقم منتقل کی گئی اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں۔جھارکھنڈ میں ڈیجیٹل گرفتاری اب ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے، سی آئی ڈی کی سائبر کرائم برانچ میں ڈیجیٹل گرفتاری کے چار معاملے پہلے ہی سامنے آچکے ہیں۔ پروفیسر کے ساتھ دھوکہ دہی ریاست کا سب سے بڑا معاملہ ہے، جس میں 1 کروڑ 78 لاکھ روپے کا فراڈ کیا گیا۔ سائبر کرمنلز ڈیجیٹل گرفتاری کے لیے مختلف سیکیورٹی اداروں اور پولیس کی جعلی آئی ڈیز کا سہارا لیکر لوگوں سے ٹھگی کر رہے ہیں۔سائبر مجرم ڈیجیٹل گرفتاریوں کے لیے بہت ہی منصوبہ بندی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

وہ اس شخص کے بارے میں پوری معلومات جمع کرتے ہیں جس کو اپنا شکار بنا رہے ہوتے ہیں۔ سائبر مجرم جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو اپنے جعل میں پھنسایا جا سکتا ہے جو بڑے بڑے تاجر ہیں، ڈاکٹر ہیں یا ریٹائرڈ افسران ہیں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے پاس روپیہ ہوتا ہے اور ان کو غیر قانونی لین دین اور منی لانڈرنگ جیسے معاملات میں دھمکیاں دے کر اپنے جعل میں پھنسایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button