بین الاقوامی خبریں

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں تیزی، اگلا منظرنامہ کیا ہوگا؟

یروت میں تمام سفارت خانوں نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کر دی

بیروت، 26جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)ایک جانب جنوبی لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپوں کا دائرہ وسیع ہونے سے متعلق اندیشوں میں اضافہ ہو رہا ہے، دوسری جانب اس تنازع کے سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں تا کہ سرحد کی دونوں جانب صورت حال ایک بار پھر مستحکم ہو سکے۔اس سلسلے میں فریقین کے بیچ جارحیت کو بڑھنے اور لبنان کو دوسرا غزہ بننے سے روکنے کے لیے بین الاقوامی حلقے بھی متحرک نظر آ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس بھی اس حوالے سے خبردار کر چکے ہیں۔جرمن وزیر خارجہ انالینا بیئربوک نے گذشتہ روز لبنانی دار الحکومت بیروت کا دورہ کیا۔ کئی گھنٹے پر مشتمل دورے میں انہوں نے لبنانی ذمے داران سے ملاقات کی اور واضح کیا کہ صورت حال نازک ہے اور خطرات بدستور قائم ہیں۔عسکری اور تزویراتی امور کے محقق مصطفی اسعد نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان زیادہ پر تشدد لڑائی دیکھی جائے گی۔ حزب اللہ بالائی جلیل کے علاقے پر حملے میں پہل کر سکتی ہے۔ جارحیت روکنے کے لیے سفارتی کوششیں ابھی تک کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔

امریکہ یہ چاہتا ہے کہ فریقین کے بیچ حالیہ سطح پر جھڑپیں برقرار ہیں تاہم ان میں توسیع نہ ہو۔ اس کا مقصد صدارتی انتخابات کا عرصہ گزارنا ہے۔مصطفی اسعد نے انکشاف کیا کہ لبنان کے جنوب میں کسی بھی خطرناک منظر نامے کے پیش نظر بیروت میں تمام سفارت خانوں نے اپنے ملازمین کی تعداد کم کر دی ہے۔ اسی طرح ملک میں کئی مقامات پر فوری انخلا کے ٹھکانے بھی بنا لیے گئے ہیں تا کہ جنوبی لبنان میں جنگ شروع ہونے کی صورت میں سفارت خانوں کے ملازمین کے فوری انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔اسعد نے واضح کیا کہ حزب اللہ اسرائیل کے اندر کسی علاقے میں اپنے سیکڑوں عناصر بھیج کر مہم جوئی کے ذریعے جنگ کا آغاز کر سکتی ہے۔ تاہم یہ مہم جوئی زیادہ دیر جاری نہیں رہے گی۔ البتہ حزب اللہ اپنے معنوی اور میڈیائی مقاصد حاصل کر لے گی جس کے بعد اسرائیل لبنان کے خلاف شدید جوابی کارروائی کرے گا۔

اس حوالے سے فوری حملہ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں کرسی صدارت پر پہنچنے سے پہلے جنگ کا خاتمہ ایران کے مفاد میں ہے۔اسعد کے مطابق تل ابیب حالیہ امریکی انتظامیہ (ڈیموکریٹک پارٹی) پر اعتماد کھونے کے بعد وائٹ ہاؤس میں ریپبلکنز کی واپسی کی راہ دیکھ رہا ہے۔ معلوم رہے کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ وسیع ہونے کی صورت میں واشنگٹن حتمی طور پر اسرائیل کی جانب ہو گا۔دوسری جانب عرب نژاد امریکی سیاسی تجزیہ کار حازم الغبرا نے بتایا کہ امریکا اسرائیل کے شمالی محاذ پر مزید جارحیت نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جن میں نمایاں ترین یہ ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے محاذ کو ابھی تک ختم نہیں کیا اور وہاں اپنے عسکری مقاصد حاصل نہیں کیے ہیں، ایسے میں ایک نیا محاذ کھول لینا غیر منطقی ہو گا

تاہم الغبرا کے نزدیک اسرائیل ابھی تک جنوبی لبنان میں اپنی فوجی مہم میں کامیاب رہا ہے۔ وہ تقریبا روزانہ کی بنیاد پر حزب اللہ کے کمانڈروں، ذمے داروں اور ارکان کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ حزب اللہ کی انٹیلی جنس میں واضح در اندازی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی جانب کو پورا یقین ہے کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ جنوبی لبنان کے محاذ پر مثبت طور اثر انداز ہو گا۔ اس کے بر عکس اسرائیل ان دونوں محاذوں کے بیچ ربط کو مسترد کرتا ہے۔ اس کے نزدیک حزب اللہ کا مسئلہ سات اکتوبر سے پہلے سے قائم ہے اور اس کے بعد مزید بڑھ گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button