آخر امریکہ نے اسرائیل کو دوماہ میں دو سال کے برابر اسلحہ کیسے بھیج دیا؟
امریکی انتظامیہ کے حکام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر براہ راست تنقید کرتے نظر آئے ہیں۔
نیویارک ، 27جون :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اس کے باوجود کہ امریکی انتظامیہ کے حکام اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو پر براہ راست تنقید کرتے نظر آئے ہیں۔ جنہوں نے پچھلے ہفتے امریکہ سے اسلحے کی ترسیل میں سست روی کی شکایت کی۔ مگر ان کی اس شکایت میں ظاہراً کچھ وزن موجود ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہی واحد حقیقت ہے کہ اسرائیل کو ان دنوں میں اسلحے کی ترسیل میں کچھ سستی دیکھنے کو ملی ہے یا کچھ اور بھی حقائق موجود ہیں جو فی الحال منظر عام پر نہیں ہیں۔امریکی حکام نے بیان کیا ہے کہ امریکہ نے تل ابیب کو حال ہی میں غزہ کی جنگ کے دوران پہلی بار اسلحے کی ترسیل میں کچھ سستی کی ہے۔ ان حکام کے مطابق اسلحے کی ترسیل کی اس سستی کی وجہ کوئی اور یا کچھ اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ اسرائیل کو پچھلے مہینوں میں امریکی اسلحہ بہت سرعت اور بھاری مقدار میں بھیج دیا گیا تھا۔
اس قدر بھاری مقدار میں اسلحہ دینے کے بعد فطری بات تھی کہ اسرائیل کے اسلحہ گوداموں کو پہلے ہی بھرا جا چکا تھا اب ان میں مزید گنجائش پیدا ہونے کے لیے سست روی اختیار کرنا ضروری تھا۔ لیکن سست روی کے اس موقع کو امریکہ نے خوبصورتی سے استعمال کرتے ہوئے رفح پر حملہ سے پہلے مخصوص قسم کے بموں کی ترسیل روکنے کے جائزے کی ایسی پوززیشن لی جس سے ہر طرف خبریں جنم لینے لگیں۔امریکی حکام نے اب اس کی وجہ اس طرح بیان کی ہے کہ یہ سست روی مئی میں نہیں شروع کی گئی بلکہ یہ مارچ سے جاری ہے اور امریکہ وہ تمام ملاقاتیں و اجلاس جن کی اسرائیل کی طرف سے درخواست آئی تھی پہلے ہی مکمل کر چکا ہے۔
امریکی دفتر خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ اسلحہ کی کھیپ پہنچانے کی رفتار نارمل تھی۔ اگر یہ تیز نہیں کی گئی تھی مگر سست تھی تو یہ پچھلے کئی ماہ کی تیزی سے اسلحہ فراہم کرنے کی رفتار کے مقابلے میں سست تھی۔قومی سلامتی کی سابق مشیر جیورا ایلینڈ نے کہاکہ امریکہ کی طرف سے جنگ کے شروع میں اسرائیل کو جس رفتار سے اسلحہ کی کھیپ ملنا شروع ہوئی وہ ایسی تھی کہ جتنا اسلحہ 2 سال میں اسرائیل منتقل کیا جانا تھا وہ 2 ماہ میں منتقل کر دیا گیا۔
تاہم سابق مشیر قومی سلامتی کا یہ کہنا ہے کہ اسلحہ اگر سست ہوا بھی ہو تو اس کی وجوہ سیاسی نہیں ہے۔ نیتن یاہو نے جو کچھ کہا وہ کسی حد تک صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کے لیے جو انداز اختیار کیا ہے وہ ڈرامہ والا اور بے بنیاد ہے۔ان کا کہنا تھاکہ یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ اسرائیل نے لبنان کے ساتھ ممکنہ جنگ کے لیے بھی بہت بڑی مقدار میں اسلحہ جمع کر لیا ہے۔ اس امر کی تصدیق اسرائیل کے موجودہ حکام بھی کرتے ہیں۔



