68 فیصد اسرائیلیوں کو جنگ میں فتح کی امید نہیں، سروے میں انکشاف
غزہ جنگ نیتن یاھو کے تحفظات کی وجہ سے طول پکڑے گی: اسرائیلی سروے
مقبوضہ بیت المقدس، 8جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی حکومت کے چینل 12 نے ایک سروے شائع کیا جس میں تقریباً 70 فیصد صیہونیوں نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں غزہ کی جنگ میں یقینی فتح کی کوئی امید نہیں ہے اور ان میں سے 68 فیصد نے اس جنگ کے بارے میں نیتن یاہو کی کارکردگی کو انتہائی برا قرار دیا ہے۔غزہ جنگ کے 9 ماہ کے بعد صیہونی حکومت کے چینل 12 نے آج صیہونیوں کے درمیان کئے جانے والے ایک سروے کی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق تقریباً 70 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ موجودہ اسرائیلی کابینہ کی طرف سے غزہ جنگ کا مینجمنٹ خراب ہے۔اس چینل کے مطابق، زیادہ تر صہیونی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جنگ سے متعلق کارکردگی کے بارے میں اچھا نظریہ نہیں رکھتے۔
چنانچہ صرف 28 فیصد کا خیال ہے کہ جنگ میں نیتن یاہو کی کارکردگی اچھی رہی ہے۔سروے کے مطابق 46 فیصد شرکاء کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے وزیرجنگ یوو گالانٹ نے جنگ کو خراب طریقے آگے بڑھایا ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل جنگ میں مکمل فتح کے قریب ہے، 68 فیصد نے کہا کہ اسرائیل کی فتح کا’’امکان نہیں‘‘، 23 فیصد نے کہا کہ ، ’’جیت قریبٗٗ ہے، اور 7 فیصد ی افراد نے رائے دینے سے گریز کیا۔
غزہ جنگ نیتن یاھو کے تحفظات کی وجہ سے طول پکڑے گی
اسرائیلی چینل 12 کی طرف سے کرائے گئے ایک رائے عامہ کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نصف سے زیادہ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ نو ماہ سے جاری غزہ جنگ نیتن یاہو کے سیاسی تحفظات کی وجہ سے طول پکڑ رہی ہے۔ سروے کے مطابق 54 فیصد افراد نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اس کی وجہ نیتن یاہو کے سیاسی تحفظات ہیں۔ 34 فیصد کے مطابق آپریشنل وجوہات کی بنا پر جنگ ختم نہیں ہوسکی۔ 12 فیصد نے اس حوالے سے غیر یقینی کا اظہار کیا۔جواب دہندگان میں سے 68 فیصد نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کا جنگ سے نمٹنے کا طریقہ خراب تھا۔ اس کے مقابلے میں 28 فیصد نے جنگ سے نمٹنے کے طریقے کو اچھا خیال کیا اور چار فیصد نے غیر یقینیت کا اظہار کیا۔
غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات کے حوالے سے اطلاع ملی ہے کہ تل ابیب کل دو وفود دوحہ اور قاہرہ بھیجے گا تاکہ تبادلے کے معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق رکاوٹوں پر بات چیت کی جا سکے۔ویب سائٹ ایکسیوس نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سی آئی اے کے ڈائریکٹر ولیم برنز اس ہفتے کے آخر میں دوحہ جائیں گے تاکہ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھیں۔ اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ مذاکرات کئی ہفتے جاری رہ سکتے ہیں۔اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں خونریز حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ حماس کے مطابق بے گھر ہونے والے لوگوں کے ایک سکول ہاؤس کو نشانہ بنایا گیا۔ غزہ کی پٹی میں جنگ اپنے دسویں مہینے میں داخل ہو رہی ہے۔ غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بمباری میں 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ نُصیرات کیمپ میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے ایک اسکول کو نشانہ بنایا گیا تھا۔اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کی فضائیہ نے ’’الجاعونی‘‘ اسکول کے علاقے کو نشانہ بنایا جو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (اونروا) سے منسلک ہے۔ فوج نے ایک بیان میں مزید کہا ہے کہ اس جگہ کو ایک ٹھکانے اور آپریشنل انفراسٹرکچر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جہاں سے فوجیوں کیخلاف حملے کیے جاتے تھے۔
قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ، حماس مستقل جنگ بندی کی شرط سے دستبردار
دوحہ، 8جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کو اسرائیل کے جنگی اہداف کے حصول میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔ جب تک اسرائیل اپنے اہداف حاصل نہ کرلے اس وقت تک ہمیں جنگ جاری رکھنا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے تحت غزہ کی سرحد سے حماس کو ہتھیاروں کی اسمگلنگ کو روکنا چاہیے اور ہزاروں عسکریت پسندوں کو شمالی غزہ واپس جانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل زندہ قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد کی واپسی کے لیے کام کرے گا۔
یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب حماس کے ایک رہ نما نے اتوار کے روز ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ تحریک نے قیدیوں کی رہائی پرجنگ روکے بغیر اور مستقل جنگ بندی شرط کے بغیر ہی مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ان کا یہ بیان امریکہ، مصر اور قطر کی جانب سے ثالثی کی نئی کوششوں کے دوران آیا ہے جس میں اسرائیل اور حماس پر زور دیا گیا ہے کہ وہ نو ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کے لیے مذاکرات میں شامل ہوں۔اس اہلکارنے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ حماس کو قیدیوں کے معاملے پر مذاکرات کرنے کے لیے اسرائیل کو مکمل، مستقل جنگ بندی پر راضی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قدم کو نظرانداز کیا گیا، کیونکہ ثالثوں نے عہد کیا تھا کہ جب تک قیدیوں کی بات چیت جاری رہے گی، جنگ بندی جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ حماس مستقل جنگ بندی کے لیے اپنی شرط سے پیچھے ہٹ گئی ہے، کیونکہ اس نے طے کیا ہے کہ مستقل جنگ بندی کے بغیر مذاکرات شروع ہوں گے۔
حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس سے قبل حماس کے مستقل جنگ بندی کے مطالبات کی شدید مخالفت کی تھی۔نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ وہ حماس کے خاتمے تک جنگ جاری رکھیں گے، جس نے 2007ء سے غزہ کی پٹی کو کنٹرول کر رکھا ہے۔31 مئی کو امریکی صدر جو بائیڈن نے ایک منصوبہ پیش کیا جو ان کے بقول اسرائیل نے تجویز کیا تھا۔ اس میں پہلے مرحلے میں چھ ہفتے کی جنگ بندی اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاں موجود یرغمالیوں کی رہائی کی شرط رکھی گئی ہے۔اسرائیلی موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا جمعے کو قطری ثالثوں کے ساتھ بات چیت کے بعد دوحہ سے روانہ ہوئے جس میں جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی کے منصوبے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔نیتن یاہو کے دفتر کے ترجمان نے کہا کہ اگلے ہفتے اسرائیل غزہ کی پٹی میں جنگ بندی پر بات چیت کو بحال کرنے کے لیے اپنے ایلچی بھیجنا دوبارہ شروع کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔



